معرکہ حق بُنیان مرصوص میں بھارت کی تاریخی شکست پر کانگریس رہنما نے عبرتناک انجام کا اعتراف کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

پاک فوج کے آپریشن بُنیان مرصوص میں بھارتی افواج کی تاریخی شکست کے بعد وہاں کی سیاست میں بھی بھونچال آ چکا ہے۔ بھارت کی ذلت آمیز شکست پر کانگریس ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار نے مودی اور بھارتی فوج پر تابڑ توڑ حملے  کیے ہیں۔

کانگریس کے ایم ایل اے وجے واڈیٹیوار  نے مہنگی دفاعی خریداری اور بوسیدہ حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مودی سرکار پر زوردار وار کیا ہے اور انہوں نے مودی کی جنگی سوچ کو ناکام قرار دے دیا۔

کانگریس ایم ایل اے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سستے ڈرونز بھارت بھیجے، بھارت نے اربوں جھونک دیے۔ چین نے پاکستان کو 5 ہزار ڈرونز دے کر بھارت کی کمزوری بے نقاب کر دی جب کہ مودی سرکار اربوں جھونکتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے 15 ہزار کے ڈرون گرانے کے لیے 15 لاکھ کا میزائل فائر کیا۔ مودی سرکار کی جنگی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام اور  5 ہزار سستے پاکستانی ڈرونز کے سامنے بھارتی دفاع بےبس ثابت ہوگیا۔

کانگریس رہنما نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کو مودی سرکار کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کم لاگت میں حملہ کیا جب کہ بھارت نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ بےدریغ ضائع کیا۔

کاگنریس ایم ایل اے نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 3 سے 4 رافیل طیارے تباہ کر دیے، مگر مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ رافیل سودے پر نعرے تھے، اب نقصان چھپایا کیوں جا رہا ہے؟۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کی خود پسندی نے قومی سلامتی داؤ پر لگا دی ہے۔ صرف مہنگے ہتھیار کافی نہیں، بھارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مودی سرکار کی ایم ایل اے بھارت کی نے بھارت

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی