ٹرمپ کے تمام دعوے جھوٹے ہیں، بھارتی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
جے شنکر نے کہا کہ آپریشن جاری ہے کیوں کہ اسکا مقصد ایک واضح پیغام بھیجنا ہے کہ اگر بھارت پر حملہ کیا گیا تو جواب دیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارت و پاکستان جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کارروائی اور فائرنگ کو روکنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے لیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت نے امریکہ سمیت تمام ممالک کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان تنازع کو روکنا چاہتا ہے تو اسے براہ راست ہندوستانی فوجی حکام سے رابطہ کرنا ہوگا۔ نیدرلینڈ کے نیوز چینل این او ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے لئے ہاٹ لائن سسٹم موجود ہے اور اس کے ذریعے 10 مئی کو پاکستانی فوج نے پیغام دیا کہ وہ فائرنگ بند کرنے کے لئے تیار ہیں لہٰذا ہندوستان نے اس کا جواب دیتے ہوئے فائرنگ روک دی۔
امریکہ کے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر جے شنکر نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان سے بات کی ہے، جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دو ممالک کے درمیان کشیدگی ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر ممالک فطری طور پر بات چیت کا مطالبہ کرتے ہیں، اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور حل پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں براہ راست مذاکرات صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ہوئے۔ جے شنکر نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 بے گناہ لوگوں کی موت کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا، جس میں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تو پاک فوج نے ہندوستانی ٹھکانوں پر فائرنگ شروع کردی۔ اس کے بعد چار روز تک دونوں طرف سے جوابی کارروائی جاری رہی۔ اس کے بعد 10 مئی کو بھارت نے پاکستان کے 8 ائیر بیسز پر بڑی کارروائی کی جس کے باعث پاک فضائیہ کے کئی اڈے نان آپریشنل ہوگئے۔ جے شنکر کے مطابق یہ جوابی کارروائی اس قدر فیصلہ کن تھی کہ پاکستانی فوج کو مذاکرات کے لئے رضامند ہونا پڑا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آپریشن سندور ابھی بھی جاری ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ آپریشن جاری ہے کیوں کہ اس کا مقصد ایک واضح پیغام بھیجنا ہے کہ اگر بھارت پر حملہ کیا گیا تو جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی جاری ہے اور فوجیں اپنی اپنی پوزیشنوں پر دوبارہ تعینات ہو رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے درمیان جے شنکر نے کہا کہ ہے کہ اگر بھارت نے انہوں نے جاری ہے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔