سینیٹ: پاک افریقہ تعلقات کے فروغ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کی قرارداد سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور ہو گئی۔
سینیٹ میں قرارداد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کی۔
سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 25 مئی پاکستان افریقہ دوستی کے دن کے طور پر منایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افریقی ممالک کی آزادی کی تحریک کی حمایت کرتا ہے، پاکستان اور افریقہ کے درمیان پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ہمیں مل کر بیٹھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں پاک افریقہ دوستی کے اس اہم اجلاس کا حصہ ہوں، آج پاک افریقہ تاریخی و باہمی تعلقات اور دوستی کا دن ہے، پارلیمانی فرینڈشپ گروپ نے بھی پاک افریقہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے افریقہ کو ٹیکسٹائل اور سرجیکل آئٹمز کی ایکسپورٹ کی آفر کی ہے، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت آئی ٹی اور زراعت سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان اور افریقہ کے درمیان کیپیسٹی بلڈنگ کی ضرورت ہے۔
سینیٹ گیلری میں موجود افریقی ممالک کے نمائندگان نے اس قرارداد کا خیر مقدم کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاک افریقہ اسحاق ڈار
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔