شیعہ علماء کونسل جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر علامہ عامر عباس ہمدانی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں ایس یو سی جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر ڈاکٹر علامہ سید عامر عباس ہمدانی نے کہا ہے کہ صوبائی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد جب میں قائد ملت کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے کہا کہ اپنا درد اور دُکھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بات عوام تک نہیں پہنچ رہی، میں نے اپنی ذمہ داری کے بعد مختلف اضلاع کے دورے شروع کیے ہیں، عوام کی جانب سے بہت پیار ملا ہے، عوام میں کوئی جمود نہیں، عوام آج بھی آمادہ ہے، نام نہاد مسلمانوں کا چہرہ دنیا نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ متعلقہ فائیلیںعلامہ سید عامر عباس ہمدانی اس وقت شیعہ علماء کونسل جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر ہیں، ایک معروف خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ مدرسے کا انتظام و انصرام بھی سنبھالے ہوئے ہیں، اپنی ذمہ داری کے بعد مختلف اضلاع کا دورہ جاری ہے، گزشتہ روز ملتان میں اُنہوں نے ''اسلام ٹائمز'' سے گفتگو کی، جوحاضر خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔