فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل پر گفتگو کی گئی۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق بلال بن ثاقب نے کہا کہ ہم ایسی نسل کےلیے کام کر رہے ہیں جو ڈیجیٹل فنانس، ڈی سینٹر لائزیشن اور اے آئی کو موقع سمجھتی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق بلال بن ثاقب نے پاکستان کرپٹو کونسل کی پیش رفت پر اہم اپڈیٹس شیئر کیں، ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد اور بائنانس کے بانی کے دورہ اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق بھی آگاہ کیا۔
خیبرپختونخوا میں چار ماہ میں 116 خواتین کا قتل ، سب سے زیادہ عورتیں کہاں ماری گئیں؟ جانیے
ملاقات کا مقصد نوجوانوں کو بلاک چین، کرپٹو کرنسی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بااختیار بنانا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔