اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم شہباز شریف  نے کہا ہے کہ 10 مئی کو افواج پاکستان نے قوم کے اتحاد اور اتفاق سے بھارت کو جو شکست فاش دی دشمن اسے قیامت تک یاد رکھے گا۔

  مری روڈ انٹر چینج جناح سکوائر کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ایک بار پھر قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں، 10 مئی کو افواج پاکستان نے اپنی بہترین حکمت عملی اور بہادری سے بھارت کو جو شکست فاش دی یہ اللّٰہ تعالیٰ کا خاص انعام اور مہربانی ہے۔قوم کے اتحاد و اتفاق کی شاندار تاریخ دشمن قیامت تک یاد رکھے گا۔

بیرسٹر گوہر کی 3شخصیات سے اہم ملاقاتیں

وزیر اعظم نے جناح سکوائر کے منصوبے کی 35 دن میں تکمیل پر سی ڈی اے، متعلقہ کمپنی کے ذمہ داران اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس مختصر مدت میں منصوبے کی تکمیل آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور سی ڈی اے کو مزید مستعدی اور محنت اور لگن سے کام کرنے اور اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پر وفاقی وزراء حنیف عباسی، طارق فضل چوہدری، طلال چوہدری کے علاوہ سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

بھارت میں انتہا پسندوں کا ’’انوکھا انتقام ‘‘ جن مٹھائیوں میں ’’پاک ‘‘ کا لفظ آتا تھا انکا نام بھی بدل ڈالا

’’جنگ ‘‘ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ 35 روز کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا تاکہ شہریوں کیلئے کم سے کم مشکلات پیدا ہوں۔ منصوبے کے تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور بہترین اور معیاری تعمیر کو یقینی بنایا گیا۔ فیض آباد چوک پر پل کو چوڑا کرنے، شاہین چوک اور کشمیر چوک سمیت کئی اور منصوبوں پر جلد کام شروع کیا جا ئے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار صرف 35 روز کی ریکارڈ مدت میں انڈر پاس پروجیکٹ مکمل کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر لینڈ اسکیپنگ اور ہارٹیکلچر کا کام جاری ہے۔ اس منصوبے سے مری جانے والے شہریوں کو آمدورفت میں بہت سہولت ملے گی۔ وقت کے ساتھ شہریوں کو ایندھن کی بھی بچت ہوگی۔  چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے پروجیکٹ کی تکمیل کے بارے  میں بریفنگ دی۔

 کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، خصوصی بریفنگ ،عید الاضحیٰ پر سیکیورٹی کے حوالےسے اہم فیصلے

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار