Express News:
2026-06-03@07:37:09 GMT

نسل کش خنجر پر ذرا سا ٹھنڈا پانی ڈال لیجیے

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

غزہ میں جاری نسل کشی کے دو سال سات مہینے بعد کم ازکم اتنا ضرور ہوا ہے کہ امریکا کو چھوڑ کے برطانیہ ، فرانس اور کینیڈا جیسے سرکردہ مغربی ممالک  ’’ افسوس ناک صورتِ حال‘‘ اور ’’تشویش‘‘ جیسے الفاظ سے آگے بڑھ کے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اسرائیل نے غزہ کی غذائی ناکہ بندی ختم نہ کی تو ہم پابندیاں لگانے پر ’’ غور‘‘ کریں گے۔

اسپین نے کئی مہینے پہلے اسلحے اور اشیا کی تجارت معطل کر دی تھی مگر یہ معطلی عملاً علامتی ہے کیونکہ اسرائیل اسپین سے بہت زیادہ تجارت پہلے بھی نہیں کرتا تھا۔ناروے کئی برس سے فلسطینی ریاست کے قیام کا پرزور حامی ہے۔آئرلینڈ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی اقدامات کا شدید مخالف ہے۔ مگر تجارتی تعلقات اپنی جگہ قائم ہیں۔

فرانس کو بھی غزہ میں اسرائیلی رویہ ’’ شدید ناپسند ‘‘ ہے۔فرانسیسی صدر میخواں اور وزیرِ خارجہ اکثر اسرائیل کی غزہ پالیسی پر ’’ سخت ردِعمل ‘‘ بھی دیتے رہتے ہیں۔ صدر میخواں تو کبھی کبھی اتنے تڑپ جاتے ہیں کہ نیتن یاہو سے ٹیلی فونک بات چیت میں یہاں تک بھی جتا دیتے ہیں کہ ’’ فرانس کو آپ کے رویے اور بین الاقوامی ردِ عمل پر آپ کی سنی ان سنی کا بہت قلق ہے ‘‘۔مگر فرانس نے اسرائیل سے تجارت یا اسلحے کا کاروبار جزوی طور پر ہی معطل کرنے کے لیے اب تک کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ؟ ممکن ہے کوئی ’’ خفیہ ‘‘ اٹھایا ہو ۔

جرمنی جہاں فلسطین کا جھنڈا لہرانا بھی قابلِ گرفت یہود دشمن فعل ہے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدنے کے لیے جرمن چانسلر بھی غربِ اردن اور غزہ میں جاری اسرائیلی اقدامات پر ’’ ناخوشی ‘‘ کا اظہار کر لیتے ہیں۔

برطانیہ نے بالاخر ’’ ضمیر ‘‘ کے ہاتھوں مجبور ہو کر گزشتہ برس ستمبر میں اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرنے والی برطانوی کمپنیوں کے لیے تیس نئے لائسنسوں کا اجرا روک دیا اور گزشتہ ہفتے اسرائیل کو ’’ پسندیدہ تجارتی ملک ‘‘ کا درجہ دینے والے مذاکرات بھی معطل کر دیے۔نیز مزید ’’ تادیبی اقدامات ‘‘ کی بھی ’’ دھمکی ‘‘ دی ہے۔

مگر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ گزشتہ جمعہ کو ہی برطانوی دارالعوام میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے سربراہ لیام بائرن نے وزیرِ تجارت ڈگلس الیگزینڈر اور وزارتِ دفاع کے اہل کاروں سے پوچھا کہ گزشتہ برس اسرائیل اور برطانیہ کے تجارتی تعلقات کا کیا احوال رہا؟ کیونکہ سرکاری محکمہ شماریات نے جو تازہ ترین اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ حکومت کے اس دعوی کے بالکل برعکس ہیں کہ اسرائیل کے لیے برطانوی اسلحے کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال دی گئی ہے ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ستمبر میں نئے اسلحہ لائسنوں کے اجرا پر پابندی کے بعد کے تین ماہ میں برطانوی کمپنیوں نے اسرائیل کو لگ بھگ ایک سو ستائیس ملین پاؤنڈ کے دفاعی آلات بھیجے۔یہ مالیت سال دو ہزار بیس سے تئیس تک ہونے والی دفاعی تجارت کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ ہے۔

جب ایوان میں شیم شیم کے نعرے بلند ہوئے تو وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لامی نے یہ دلیل پیش کی کہ ’’ سرکار نے اسرائیل کو جو آلات فروخت کیے ہیں وہ غزہ میں استعمال کرنے کے لیے نہیں ’’۔اس بودی دلیل پر مزید شیم شیم ہوئی۔ایوان کی گیلری میں موجود ایک نامہ نگار نے برجستہ کہا ’’ سرکاری پالیسی یہ ہے کہ اسرائیل بے شک غزہ میں نسل کشی کرے مگر ہم سے خریدے خنجر پر ٹھنڈا پانی ڈال کر ‘‘۔

جہاں تک یورپی یونین کا معاملہ ہے تو یونین کے ٹریڈ کمشنر مسلسل مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ یونین کو اسرائیل کے ساتھ تجارت معطل کرنے کے ’’ امکانات ‘‘ پر غور کرنے کے لیے سنجیدگی سے ’’ سوچنا ‘‘چاہیے۔یونین یہ تک نہ کر سکی کہ موسیقی کے براعظمی مقابلے ’’ یورو ویڑن ’’ میں اسرائیل کی شرکت ہی روک دے۔اسرائیلی گلوکار گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی یورو ویڑن میں دھڑلے سے شریک ہوئے۔

یورپی یونین کے اکثر ارکان بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے رکن ہیں۔مگر آج تک کسی بھی یورپی ملک نے کھل کے نہیں کہا کہ اگر انٹرنیشنل کرائم کورٹ کے سمن یافتہ دو اشتہاری ملزم ’’ مسمی نیتن یاہو اور مسمی یوو گیلنٹ‘‘ (سابق وزیرِ دفاع ) ہماری فضائی حدود سے گذرے تو ہم انھیں حراست میں لے کر عدالت کے حوالے کرنے میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔

ہنگری نے تو یہ سمن جاری ہونے کے بعد انٹرنیشنل کرائم کورٹ سے اپنی رکنیت ہی واپس لے لی اور جرمنی گرفتاری وارنٹ کے خلاف اپیل میں فریق بن گیا۔امریکا نے عدالتی اہلکاروں کی ملک میں آمد کو ممنوع قرار دے دیا۔تب سے نیتن یاہو دو بار واشنگٹن اور ایک بار ہنگری جا چکے ہیں۔ پیغام واضح ہے کہ ہم بین الاقوامی عدالتوں کو بھی اسی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں جو ہمیں مغرب نے ہی پہنایا ہے۔

اہلِ مغرب کو کیا روئیں۔خود جن مسلمان ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی تعلقات معطل نہیں کیے۔بلکہ بحیرہ قلزم کے راستے پر یمن کے ہوثیوں کی ناکہ بندی کے نتیجے میں اسرائیلی بندرگاہ ایلات میں سناٹے کے بعد اسرائیل اب خلیج اور اردن کے راستے ایشیائی ممالک سے درآمد و برآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ نے تین خلیجی ریاستوں میں پانچ دن گذارے اور ساڑھے تین ٹریلین ڈالر کے تجارتی و سرمایہ کاری سمجھوتے کیے۔ایک بار بھی کسی میزبان کے منہ سے نہیں نکلا کہ ظلِ الہی آپ کی ہر بات پر آمنا و صدقنا۔ بس زرا سی جنگ بندی بھی کروا دیجے تاکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی کچھ دلجوئی ہو جائے۔

پچھلے دو برس سات ماہ میں کسی مغربی ملک نے اسرائیل کے سفیر کو طلب کر کے پچپن ہزار سے زائد فلسطینیوں کی نسل کشی پر ایک بھی احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا۔مگر جب گزشتہ بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے کا دورہ کرنے والے لگ بھگ تیس رکنی عالمی سفارتی وفد پر اسرائیلی فوج نے گولیاں برسا کے یہ دورہ افراتفری میں ختم کروایا۔اس کے بعد یورپی دارلحکومتوں میں اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے ’’ سخت احتجاج ’’ کیاگیا۔اسرائیل فوج نے کہا کہ دراصل اس وفد کی حفاظت کے لیے ہوائی فائرنگ کی گئی تھی۔ اگر وفد میں شامل کسی رکن کو کوئی ’’ زہنی ٹھیس ’’ پہنچی تو ہم معذرت خواہ ہیں۔

اس تناظر میں اگلی بار جائزہ لیں گے کہ پچھلے دو برس سات ماہ میں اقتصادی بائیکاٹ کی عوامی تحریکوں اور اس بابت ریاستی یقین دہانیوں کے بعد اسرائیل کے عالمی تجارتی تعلقات میں کیا ڈینٹ پڑا؟

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی میں اسرائیل نے اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کے کرنے کے ہیں کہ کے بعد کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان