لبنانی وزیر اعظم نے صیہونی حملوں کو روکنے کیلئے بین الاقوامی دباؤ کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں نواف سلام کا کہنا تھا کہ جنگبندی کے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل، فوری طور پر لبنانی علاقوں سے باہر نکلے۔ اسلام ٹائمز۔ آج لبنانی وزیر اعظم "نواف سلام" نے اپنی سرزمین پر مسلسل صیہونی جارحیت کی مذمت کر دی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری ان حملوں کو روکنے کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملوں ملک کے جنوبی علاقوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو نہیں روک سکتے۔ انہوں نے ملک میں جمہوری عمل کی پابندی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں ہمیں انتخابات کے اجراء سے نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل، فوری طور پر لبنانی علاقوں سے باہر نکلے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کی عملداری پر بھی زور دیا۔ واضح رہے کہ نواف سلام کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل نے مختلف اوقات میں جنوبی لبنان کے علاقوں کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے جنوبی لبنان کے علاقے شمع کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایک آپاچی ہیلی کاپٹر جنوبی لبنان کے قصبے صور پر اڑتا اور فائرنگ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔