اس سال مزید عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کر سکتے ہیں: امریکی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارہ دیا ہے کہ 2025 کے اختتام سے قبل مزید عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب بھی تاحال اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، حالانکہ کچھ رکاوٹیں موجود ہیں۔

مارکو روبیو نے یہ بات ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا، “میرے خیال میں اس سال کے اختتام سے پہلے مزید ممالک ابراہیم معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔”

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔ ان معاہدوں کو “ابراہیم اکورڈز” کہا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے بھی 2023 میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت کی تھی، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور اس کے بعد اسرائیل کی غزہ پر جارحیت نے یہ عمل روک دیا۔

مارکو روبیو کے مطابق، سعودی عرب اور اسرائیل دونوں اب بھی معاہدے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن غزہ جنگ اور دو ریاستی حل کی عدم موجودگی بڑی رکاوٹیں ہیں۔

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا جب تک غزہ کی جنگ ختم نہیں ہوتی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی پیش رفت نہیں ہوتی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جو دائیں بازو کی سخت گیر حکومت چلا رہے ہیں، فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف ہیں۔ انہوں نے غزہ میں مزید فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جہاں پہلے ہی پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی وزیر خارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں امریکی کردار کا اعتراف کر لیا بھارتی وزیر خارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں امریکی کردار کا اعتراف کر لیا میانوالی: سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 6 فرار اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو امریکا کو ذمے دار تصور کریں گے، ایرانی وزیرخارجہ مودی جی کھوکھلی تقریریں کرنا بند کریں، تین سوالوں کا جواب دیں، راہول گاندھی مزید حملوں کا خدشہ؛ نیتن یاہو کا دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانوں کی سیکیورٹی بڑھانے کا اعلان جنرل عاصم منیر کو بیٹن آف فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نواز دیا گیا،صدر اور وزیر اعظم نے ایوارڈ دیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسرائیل سے تعلقات قائم سکتے ہیں

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم