وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے پاکستان کی ترقی میں ایک مؤثر اور کلیدی شراکت دار کے طور پر ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت، عالمی بینک کی جانب سے پاکستان میں 20 ارب ڈالر سے زائد کی ترقیاتی سرمایہ کاری پر اس کی شکر گزار ہے۔

وزیراعظم نے یہ بات عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز، اینا بیئرڈہ کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جو جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی۔

اے پی پی کے مطابق، وزیراعظم نے عالمی بینک وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ترقیاتی سرمایہ کاری کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے 2022 کے سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آفت کے دوران عالمی بینک نے متاثرین کی مدد میں قابلِ قدر کردار ادا کیا۔

عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر اینا بیئرڈہ نے وزیراعظم کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور عالمی بینک کے مابین تاریخی شراکت داری کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کے لیے اہم اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی قیادت، پائیدار ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا اور ترقیاتی ترجیحات کا درست تعین عالمی بینک کے لیے قابل تقلید ماڈل بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک دنیا بھر میں اب پاکستان ماڈل کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔

ملاقات میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمن، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ، اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینحسین سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اینا بیئرڈہ پاکستان ماڈل عالمی بینک وزیراعظم شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اینا بیئرڈہ پاکستان ماڈل عالمی بینک وزیراعظم شہباز شریف ہوئے کہا کہ عالمی بینک انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر