بحیرہ عرب میں طوفان کے آثار، کیا پاکستان کی ساحلی پٹی نشان بن سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
بحیرہ عرب میں طوفان کی پیشگوئی، پی ایم ڈی نے الرٹ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی کو سمندری طوفان کا خطرہ؟ محکمہ موسمیات نے بتادیا
کراچی میں محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے میرین میٹرولوجی اینڈ ٹراپیکل سائیکلون وارننگ سینٹر کے مطابق مشرقی وسطی بحیرہ عرب کم دباؤ کے باعث طوفان جنم لر ہا ہے۔
پی ایم ڈی کے مطابق سازگار ماحول کی وجہ سے یہ نظام 24 گھنٹوں کے اندر ڈپریشن میں تبدیل ہونے کی توقع ہے۔ یہ فی الحال شمال کی طرف ٹریک کر رہا ہے۔
پی ایم ڈی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ساحلی پٹی کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم اس کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بحیرہ عرب پی ایم ڈی طوفان کراچی محکمہ موسمیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایم ڈی طوفان کراچی محکمہ موسمیات پی ایم ڈی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔