پنجاب کے مختلف شہروں میں آندھی اور طوفان، مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آندھی اور طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق اور 51 زخمی ہوگئے۔
اسلام آباد میں تیز آندھی کے ساتھ بارش ہوئی، اولے بھی گرے۔ آب پارہ میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، بارشوں کے باعث راولپنڈی میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
لاہور میں آندھی اور طوفان کے بعد بارش ہوئی جس کے باعث پورے شہر کی بجلی بند ہوگئی، کئی درخت جڑوں سے اکھڑگئے، قذافی اسٹیڈیم کے کئی بوتھ اڑگئے، سرچ لائٹس کے پول گرگئے جس کی وجہ سے
چکوال میں طوفانی بارش کے باعث کلر کہار کے قریب موٹر وے ایم ٹو کو کئی گھنٹوں کے لیے بند کرنا پڑ گیا۔
ملتان، حافظ آباد، گوجرانوالا، اٹک اور سیالکوٹ میں بھی آندھی چلی، جس سے دن میں رات کا منظر ہوگیا، مختلف شہروں میں متعدد مقامات پر سولر پینل اڑگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق صوبے میں آندھی و طوفان میں 14شہری جاں بحق اور 51 زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اموات بوسیدہ مکانات کےگرنے اور غیرمحفوظ مقامات پر ہونےکے باعث ہوئیں۔ لاہور میں درختوں کےگرنے اور سولرپینلز کو نقصان کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائےگی۔
پنجاب کے علاوہ خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بھی بارش ہوئی۔ پشاور میں مٹی کا طوفان آیا تو مالا کنڈ، ایبٹ آباد، مردان، چارسدہ اور مانسہرہ سمیت مختلف شہروں میں بارش ہوئی۔
سوات میں پانی مکانوں اور دکانوں میں داخل ہوگیا، ژالہ باری سے فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا۔
آزادکشمیر میں وادی نیلم اور مظفر آباد سمیت مختلف علاقوں میں بھی بارش ہوئی، سیلابی پانی کے باعث باڑیاں سیری کے مقام پر شاہراہ نیلم بند ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مختلف شہروں میں میں ا ندھی بارش ہوئی کے مطابق کے باعث
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔