پاکستان کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے والی ماہرہ خان نے ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر کے ساتھ جاری تنازعے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بالآخر اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔

ماہرہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے وضاحت دی کہ وہ اور خلیل الرحمان کبھی قریبی دوست نہیں تھے، لیکن ان کا مشترکہ پروجیکٹ ’’صدقے تمہارے‘‘ ایک ایسا سفر تھا جسے دونوں نے محبت اور خلوص سے مکمل کیا۔

متنازعہ معاملے کے حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس پورے تنازعے میں ان کی بھی کوئی غلطی تھی، تو ماہرہ نے بلا جھجک کہا: ’’ہاں، میں غلط تھی۔ مجھے انہیں براہِ راست پیغام دینا چاہیے تھا، بجائے اس کے کہ میں سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کرتی۔ وہ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اُس وقت نیلوفر کی شوٹنگ میں مصروف تھیں جب رات گئے انہوں نے ایک ایسی خبر پڑھی جس میں کسی خاتون سے بدتمیزی کا ذکر تھا۔ ماہرہ کے مطابق، اس وقت انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ وہ خاتون کون تھی، بلکہ وہ صرف ناانصافی پر آواز بلند کرنا چاہتی تھیں۔ غصے میں آکر انہوں نے وہ ٹوئٹ کی، جو بعد میں ایک تنازعے کی شکل اختیار کرگئی۔

ماہرہ نے بتایا کہ بعد میں ان کی والدہ نے بھی انہیں احساس دلایا کہ سوشل میڈیا پر ردِعمل دینے سے پہلے انہیں براہِ راست بات کرنی چاہیے تھی، خاص طور پر جب بات ایک سینئر فنکار کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ماں نے بجا طور پر مشورہ دیا کہ اگر وہ اگلے دن کسی انٹرویو میں اپنی رائے دیتیں تو زیادہ بہتر ہوتا، کیونکہ اختلاف رکھنا اور ادب قائم رکھنا بیک وقت ممکن ہے۔

اسی گفتگو میں ماہرہ خان نے سینئر اداکار فردوس جمال کی اس تنقید کا بھی جواب دیا، جس میں وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ماہرہ خان اب ہیروئن کے مرکزی کردار میں فٹ نہیں بیٹھتیں۔ ماہرہ نے انکشاف کیا کہ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ایسی باتیں ان پر گہرا اثر ڈالتی تھیں، لیکن اب وہ زیادہ پختہ ہوچکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’’جب تک آپ تھوڑے کامیاب ہوتے ہیں، لوگ ساتھ ہوتے ہیں، لیکن جب آپ بہت کامیاب ہوجائیں، تو وہی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوکر آپ کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جانتی ہیں، کچھ لوگ اُن کے بارے میں اس لیے تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں ذاتی طور پر جانتے ہی نہیں۔ انہوں نے ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ کے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ تب بھی اُن کے اپنے شعبے کے لوگ ان پر تنقید کر رہے تھے، اور وہ وقت ان کے لیے خاصا مشکل تھا۔

واضح رہے کہ ماہرہ خان اس سال عیدالاضحیٰ پر ہمایوں سعید کے ساتھ فلم ’’لو گرو‘‘ میں جلوہ گر ہونے جا رہی ہیں، جس کا شائقین کو بے صبری سے انتظار ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ماہرہ خان ماہرہ نے انہوں نے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا