تنازعہ کشمیر کو حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، جی اے گلزار
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
حریت رہنماا کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعطل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک آتش فشاں ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو خطے میں جوہری جنگ ہو سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا پر اس وقت تک جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے جب تک اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں سب سے پرانا تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوتا۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے وائس چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر سے ایک بیان میں تنازعہ کشمیر کو جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی تباہی کو روکنے کے لیے اس مسئلے کو بغیر کسی تاخیر کے انصاف کی بنیاد پر مستقل طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ تقریبا آٹھ دہائیوں سے کشمیریوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
جی اے گلزار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اختلافات کی بنیادی وجہ ہے جو جنگوں اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کا باعث ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعطل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک آتش فشاں ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو خطے میں جوہری جنگ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بنیادی مسئلے کے حل کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کوئی علاقائی یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا تعلق لاکھوں کشمیریوں کی فلاح و بہبود سے ہے۔ حریت رہنما نے مظلوم کشمیریوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو انصاف کے اصول پر حل نہ کیا گیا تو خطے میں امن و استحکام قائم نہیں ہو گا۔
انہوں نے کشمیر پر سہ فریقی مذاکرات کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ کشمیری جنگ نہیں بلکہ اس مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات شروع کریں اور ایک باعزت اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لئے کشمیریوں کی حقیقی قیادت کو بات چیت میں شامل کریں۔ انہوں نے کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، اپنی فوجیں واپس بلائے، کالے قوانین کو منسوخ کرے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔
جی اے گلزار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے فریق کی ثالثی سے تنازعہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قبضہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا، کشمیریوں کی مزاحمت بھارت کے جبر کو ختم کر دے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں زوال پذیر ہوتی ہیں لیکن مزاحمت کا جذبہ زندہ رہتا ہے۔ حریت رہنما نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ آگے آ کر مداخلت کرے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کشمیریوں کی ہوئے کہا کہ انہوں نے کے لیے نے کہا
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔