حریت رہنماا کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعطل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک آتش فشاں ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو خطے میں جوہری جنگ ہو سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا پر اس وقت تک جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے جب تک اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں سب سے پرانا تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوتا۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے وائس چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر سے ایک بیان میں تنازعہ کشمیر کو جنوبی ایشیا میں استحکام اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی تباہی کو روکنے کے لیے اس مسئلے کو بغیر کسی تاخیر کے انصاف کی بنیاد پر مستقل طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ تقریبا آٹھ دہائیوں سے کشمیریوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جی اے گلزار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اختلافات کی بنیادی وجہ ہے جو جنگوں اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کا باعث ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعطل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک آتش فشاں ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو خطے میں جوہری جنگ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بنیادی مسئلے کے حل کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کوئی علاقائی یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا تعلق لاکھوں کشمیریوں کی فلاح و بہبود سے ہے۔ حریت رہنما نے مظلوم کشمیریوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو انصاف کے اصول پر حل نہ کیا گیا تو خطے میں امن و استحکام قائم نہیں ہو گا۔

انہوں نے کشمیر پر سہ فریقی مذاکرات کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ کشمیری جنگ نہیں بلکہ اس مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات شروع کریں اور ایک باعزت اور پائیدار حل تک پہنچنے کے لئے کشمیریوں کی حقیقی قیادت کو بات چیت میں شامل کریں۔ انہوں نے کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، اپنی فوجیں واپس بلائے، کالے قوانین کو منسوخ کرے اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔

جی اے گلزار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، ترکی، ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے فریق کی ثالثی سے تنازعہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قبضہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا، کشمیریوں کی مزاحمت بھارت کے جبر کو ختم کر دے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں زوال پذیر ہوتی ہیں لیکن مزاحمت کا جذبہ زندہ رہتا ہے۔ حریت رہنما نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ آگے آ کر مداخلت کرے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کشمیریوں کی ہوئے کہا کہ انہوں نے کے لیے نے کہا

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان