خیبر پختونخوا کے 2500 سے زائد طلبہ کی ڈی جی آئی ایس پی آرکیساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے 2500 سے زائد طلبہ نے ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری کے ساتھ خصوصی نشست میں شرکت کی، جس کا مقصد نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ مزید اجاگر کرنا اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا تھا۔
نشست کے دوران نوجوانوں میں جوش و خروش دیدنی تھا، ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار، ملی نغموں کی گونج اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد کے فلک شگاف نعرے فضا کو گرما رہے تھے۔
غزہ:اسرائیلی بمباری سےفلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 9 بچے شہید
اس موقع پر پختون طلبہ نے نہ صرف اپنی قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا بلکہ دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کونشان عبرت بنا دیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران طلبہ نے پاک فوج سے اپنی بھرپور وابستگی کا اظہار کیا اور قومی سلامتی کے لیے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو سراہا،اس دوران پاک فوج زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بار بار بلند ہوتے رہے، جنہوں نے اس اجتماع کو ایک قومی جوش و جذبے کے مظہر میں بدل دیا۔
کوہ پیما سعد منور نے بھی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر دیا
یہ نشست نہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی تھی بلکہ یہ قومی شعور اور اتحاد کا پیغام لے کر آئی جس نے نوجوانوں میں نئی توانائی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری نے اس موقع پرکہاکہ غیورعوام کو پیغام ہے کشمیر کے پاکستان بننے کا وقت آگیا ہے،قوم نے فوج کیساتھ آہنی دیوار بن کر بھارتی غلط فہمی دور کردی،قوم نے مل کر بھارت کی اسٹریٹجک مس کیلکولیشن دور کی،بھارت سمجھتا تھا پاکستانی قوم اور فوج میں فاصلہ ہے۔
پی ایس ایل 10 کا فائنل : لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز آج مدمقابل ہوں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزیدکہاکہ بھارت نے دوبارہ حماقت کی تو اگلی بار مزید سخت جواب دیاجائیگا، افغان عوام ہمارے بھائی ہیں، مگر افغانستان کی اشرافیہ بھارت سے پیسے لیکر دہشتگردوں کو پناہ دے رہی ہے، افغانستان بھارت کا آلہ کار بن کر دہشتگردوں کو پناہ نہ دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :