لالو پرساد یادو نے بیٹے تیج پرتاپ کو پارٹی اور خاندان سے نکال دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو نے اپنے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو کو چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا ۔
لالو یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ اب سے تیج پرتاپ کا پارٹی اور خاندان میں کسی قسم کا رول نہیں ہو گا۔
انھوں نے ایکس پر لکھا ’نجی زندگی میں اخلاقی اقدار کو نظر انداز کرنا سماجی انصاف کے لیے ہماری اجتماعی جدوجہد کو کمزور کر دیتا ہے۔ بڑے بیٹے کی سرگرمیاں، عوامی طرز عمل اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہماری خاندانی اقدار اور روایات کے مطابق نہیں ہے۔‘
لالو یادو نے لکھا ’ان حالات کی وجہ سے میں انھیں پارٹی اور خاندان سے نکالتا ہوں، اب سے ان کا پارٹی اور خاندان میں کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انھیں چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے لکھا ’وہ خود اپنی ذاتی زندگی کے اچھے اور برے اور خوبیوں اور خامیوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بھی اس کے ساتھ تعلقات رکھے گا اسے اپنی صوابدید پر فیصلہ کرنا چاہیے۔‘
اس سے پہلے آر جے ڈی لیڈر تیج پرتاپ یادو کے فیس بک اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی گئی تھی جس پر اپوزیشن نے آر جے ڈی کو نشانہ بنایا تھا۔
اس کے بعد تیج پرتاپ یادو نے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہیک ہو گیا ہے اور ان کی تصاویر کو غلط ایڈٹ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پارٹی اور خاندان یادو نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔