گزشتہ روز پنجاب میں طوفان ، بارش سے ہونیوالے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
لاہور(ویب ڈیسک ) گزشتہ روز پنجاب کے مختلف علاقوں میں آنے والے طوفان اور تیز بارش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔
پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں 221 حادثات میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، 43 افراد کو طبی امداد دی گئی جبکہ 98 افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثات میں مجموعی طور پر 153 افراد زخمی ہوئے، روڈ ٹریفک کے 2 دیواریں اورچھتیں گرنے کے 61 واقعات رپورٹ ہوئے، آگ لگنے کے 96، آسمانی بجلی گرنے کے 4 واقعات، الیکٹرک پولز، سولر سسٹم درخت گرنے اور سائن بورڈ گرنےکے 40 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث اونچائی سے گرنے کے 7 واقعات رپورٹ ہوئے۔
مزیدپڑھیں:ایک گھنٹےمیں کتنےحجاج طواف کر سکیں گے؟ عازمین کیلئے نئی سہولت
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک