گزشتہ روز آندھی اور طوفان سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز پنجاب کے مختلف حصوں میں آنے والی آندھی اور طوفانی بارش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔
پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں 221 حادثات میں 12 افراد جاں بحق ہوئے، 43 افراد کو طبی امداد دی گئی جبکہ 98 افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق حادثات میں مجموعی طور پر 153 افراد زخمی ہوئے، روڈ ٹریفک کے 2 دیواریں اورچھتیں گرنے کے 61 واقعات رپورٹ ہوئے، آگ لگنے کے 96، آسمانی بجلی گرنے کے 4 واقعات، الیکٹرک پولز، سولر سسٹم درخت گرنے اور سائن بورڈ گرنےکے 40 واقعات رپورٹ ہوئے۔
قیدیوں کے تبادلے کے بعد روس کا یوکرین کے دارالحکومت پر بڑا حملہ
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیز ہواؤں کے باعث اونچائی سے گرنے کے 7 واقعات رپورٹ ہوئے۔
راولپنڈی میں حادثات:
اس کے علاوہ راولپنڈی میں 14 حادثات میں 13 افراد زخمی ہوئے، موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں کے باعث ایک شخص جاں بحق ہوا جب کہ روڈ ٹریفک کا ایک حادثہ اور دیواریں گرنے کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آندھی اور بارش کے سبب حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مریم نواز نے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی و تعزیت کی اور زخمی افراد کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
طوفان میں پھنسی پروازکے مسافر کا آنکھوں دیکھا احوال
وزیر اعلیٰ پنجاب نے ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کیں اور پی ڈی ایم اے کو نقصانات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: واقعات رپورٹ ہوئے حادثات میں گرنے کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔