پنجاب میں طوفان اور بارش سے تباہی، حادثات میں 7 شہری جاں بحق اور 41 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
لاہور:
پنجاب بھر میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں 13 شہری جاں بحق جبکہ 92 زخمی ہوئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ہفتے کے روز صوبہ بھر میں طوفان کے باعث نقصانات بارے ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق آندھی و طوفان کے باعث پیش آنے والے حادثات میں13 شہری جاں بحق اور 41 زخمی ہوئے۔ راولپنڈی میں 1، جہلم میں 3، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب میں 1، 1 شہری جاں بحق ہوا۔
اس کے علاوہ سیالکوٹ میں دو شہری جاں بحق ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اموات بوسیدہ مکانات کے گرنے اور غیر محفوظ مقامات پر ہونے کے باعث ہوئیں۔ طوفان کے باعث متعدد کچے اور بوسیدہ مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے صوبے بھر کے کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ریسکیو 1122 سمیت دیگر ریسکیو ادارے مشینری سمیت عملے کو الرٹ رکھیں، حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ صوبائی کنٹرول روم سمیت تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی مانیٹرنگ 24/7 جاری ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خراب موسم کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور گھروں یا محفوظ مقامات پر رہنے کو ترجیح دیں جبکہ بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسمانی بجلی سے بچاؤ کیلئے محفوظ مقامات پر رہیں۔ بجلی کی گرج چمک اور طوفانی صورتحال میں کھلے آسمان تلے ہرگز نہ جائیں۔ بچوں کا خاص خیال رکھیں انہیں بوسیدہ عمارتوں کے قریب ہرگز نہ جانے دی۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پی ڈی ایم اے کے باعث
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔