پنجاب میں آندھی و طوفان سے ہلاکتوں اور نقصان پر رپورٹ جاری، 14 افراد جاں بحق، 101 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
پنجاب میں آندھی و طوفان سے ہلاکتوں اور نقصان پر رپورٹ جاری، 14 افراد جاں بحق، 101 زخمی WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) صوبہ پنجاب میں شدید آندھی اور طوفانی موسم کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق مختلف اضلاع میں پیش آنے والے واقعات میں 14 شہری جاں بحق اور 101 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد میں لاہور سے تین، راولپنڈی سے ایک، جہلم سے تین، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ اور میانوالی سے ایک، ایک فرد شامل ہے۔ اموات زیادہ تر بوسیدہ مکانات کے گرنے اور غیر محفوظ مقامات پر موجودگی کے باعث ہوئیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق آندھی و طوفان کے سبب متعدد کچے اور کمزور مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ لاہور میں درختوں کے گرنے اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ بارش اٹک میں ریکارڈ کی گئی، جہاں 48 ملی میٹر بارش ہوئی۔ راولپنڈی کے علاقے شمس آباد میں 37 ملی میٹر، چکلالہ میں 27 ملی میٹر، اور کچہری میں 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
لاہور میں بھی متعدد علاقوں میں بارش ہوئی، جن میں لاہور ایئرپورٹ پر 11 ملی میٹر، لکشمی چوک پر 3 ملی میٹر، جبکہ گلبرگ، اپر مال اور جیل روڈ پر 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح میانوالی میں 13، عیسیٰ خیل اور چکوال میں 12، مری، نورپور تھل اور نارووال میں 11 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ترجمان کے مطابق فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جھنگ اور راجن پور سمیت دیگر اضلاع میں بھی ہلکی بارش رپورٹ ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے الرٹ ہیں، اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔ 1122 سمیت تمام امدادی اداروں کو مشینری اور عملے سمیت چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی کنٹرول روم سمیت تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو الرٹ کر دیا گیا ہے، اور کنٹرول روم میں صورتحال کی نگرانی 24 گھنٹے جاری ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کی پیشگوئی کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں، اور آسمانی بجلی کے دوران محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گرج چمک اور تیز طوفان کی صورت میں کھلے آسمان تلے ہرگز نہ جائیں، اور بچوں کو بوسیدہ عمارتوں کے قریب نہ جانے دیں۔
پی ڈی ایم اے نے ایمرجنسی کی صورت میں شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں بھارتی حکومت کے زیر سرپرست دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے پاکستان میں بھارتی حکومت کے زیر سرپرست دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے غزہ میں غذائی قلت کا شکار 4 سالہ بچہ شہید ہوگیا حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی، وزیراعظم جلد نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے: وزیر توانائی اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری آپریشن کا فیصلہ اسرائیل کی گھر پر بمباری، فلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 9 بچے شہید بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا 24 کروڑ لوگوں کی بقا کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کا انتباہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا ندھی
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان