کراچی:

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں رات گئے ایک مسلح ڈکیت گروہ کی دیدہ دلیری سامنے آئی ہے، جہاں 8 رکنی گینگ نے مرکزی سڑک پر ناکہ لگا کر شہریوں کو یرغمال بنایا اور گھنٹوں لوٹ مار کرتے رہے۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو متعدد بار اطلاع دینے کے باوجود کئی گھنٹوں بعد موقع پر پہنچی، جس وقت تک ملزمان فرار ہو چکے تھے۔

پولیس کے مطابق واقعہ 24 مئی 2025 کو شام 8:00 بجے سے 8:30 بجے کے درمیان پیش آیا، جب سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر 15 میں شفٹ کی تبدیلی کے وقت ڈاکوؤں نے واردات کی۔

مزید پڑھیں: نیو کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن محمد علی شاہ کے مطابق ملزمان کی تعداد 6 سے 8 کے درمیان تھی، جن میں سے ایک ملزم سیکیورٹی گارڈ کی وردی میں ملبوس تھا۔

ڈاکوؤں نے سب سے پہلے موٹرسائیکل پر سوار تین افراد کو روک کر انہیں قابو میں کیا، بعد ازاں قربانی کے جانور لے جانے والی ایک خالی سوزوکی پک اپ گاڑی پر بھی قبضہ کر کے متاثرین کو قریبی ویران اور پتھریلے مقام پر یرغمال بنا لیا۔

ملزمان نے بعد میں ایک اور ٹویوٹا پک اپ (جس پر تین گائیں لدی ہوئی تھیں) اور ایک موٹرسائیکل کو بھی روک کر اسی مقام پر لے جایا۔ دو افراد کو باندھ دیا گیا، اور گائیں خالی پک اپ پر منتقل کر دی گئیں۔

مزید پڑھیں: کراچی، قانون کے رکھوالے بکرا چور نکلے، 7 پولیس اہلکار معطل

عینی شاہدین کے مطابق ڈاکوؤں نے متاثرہ افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انہیں سڑک کنارے بٹھا دیا اور موبائل فونز، نقدی، گاڑیوں کی بیٹریاں، موٹرسائیکلیں اور جانور لوٹ کر فرار ہو گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جب ملزمان نے پولیس اسکواڈ کو قریب آتے دیکھا تو وہ دو گائیں اتار کر اپنی 125 سی سی موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر فرار ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی کارروائی کے دوران ایک گائے اور ایک سوزوکی پک اپ کو واردات کا نشانہ بننے سے بچا لیا گیا۔

علاقے میں گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام متاثرہ افراد کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرجانی ٹاؤن کے مطابق

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک