ٹھری میرواہ میں بااثرکارشتے داروں کے گھرپرحملہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) ٹھری میرواہ میں بااثر کا رشتہ داروں کا گھر پر حملہ، خواتین و بچوں پر تشدد، دو افراد زخمی، انصاف کے لیے متاثرین کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، خیرپور کی تحصیل ٹھری میرواہ کے گاؤں محمد پنجل چنا کے رہائشی مرد و خواتین نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی بااثر رشتہ داروں کی جانب سے ظلم، زیادتی اور پولیس کی مبینہ ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔مظاہرے میں شامل محمد یعقوب، نظیر احمد، محمد عرس، امجد، محسن، خالد، اسد، پرویز چنہ، دلشاد، مسمات ارشاد، مسمات حمیدہ سمیت دیگر افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 16 ماہ قبل انہوں نے اپنی بھانجی مرک کا نکاح محمد مزمل چنا سے کروایا تھا، مگر شادی کے بعد سے ہی مزمل چنا آئے روز مرک پر تشدد کرتا رہا، جس کے باعث لڑکی کو والدین نے واپس اپنے گھر بلا لیا۔ مظاہرین کے مطابق اس واقعے کو جواز بنا کر 9 محرم الحرام کی صبح تقریباً 5 بجے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ان کے گھر پر دھاوا بول دیا، جہاں خواتین، بچوں اور مردوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اندھا دھند فائرنگ سے دو افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر اہل علاقہ جمع ہو گئے، جس پر ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے ۔ تاہم ان کے دو ساتھیوں کو اسلحے سمیت پکڑ کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ھے ، مگر پولیس نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کے بجائے محض بچاؤ کے لیے ایف آئی آر درج کی اور رشوت لے کر دیگر ملزمان کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ بااثر ملزمان اب انہیں اور ان کی بھانجی مرک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کروا کر اصل حقائق پر مبنی ایف آئی آر درج کروائیں، نامزد ملزمان اور غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔