data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیروبی: افریقی ملک کینیا میں جمہوریت کے دفاع میں شروع کیے گئے عوامی مظاہرے ایک بار پھر خونیں شکل اختیار کر گئے ہیں، جہاں پولیس کی جانب سے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 11 شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کینیا میں یہ مظاہرے اُس دن منعقد کیے گئے جسے ’’سبا سبا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی 7 جولائی کو وہ دن جب 1990ء  میں سابق آمر صدر ڈینیئل اراپ موی کے خلاف عوامی تحریک نے جنم لیا تھا اور ملک میں کثیر الجماعتی سیاسی نظام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

اس علامتی دن کے موقع پر کینیا کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور موجودہ صدر ویلیم رٹو کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

مظاہرین کا مطالبہ صدر سے استعفیٰ اور ملک میں فوری سیاسی و معاشی اصلاحات تھا، کیونکہ عوامی سطح پر حکومت پر کرپشن، مہنگائی اور آمرانہ رویے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا مرکز دارالحکومت نیروبی رہا جہاں پولیس نے بڑی تعداد میں رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرین کو مرکزی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب پولیس کی جانب سے براہ راست گولیاں چلائی گئیں، جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زمین پر گر پڑے۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے نہ صرف ہوائی فائرنگ کی بلکہ کچھ جگہوں پر مظاہرین پر براہ راست نشانہ لے کر فائرنگ کی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اس خونیں کارروائی میں 11 افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد دیگر شدید زخمی ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے اپنے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ اور املاک کو نقصان پہنچایا جس کے جواب میں طاقت کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، تاہم غیر جانبدار ذرائع کے مطابق تشدد کا آغاز سیکورٹی فورسز کی جانب سے ہوا۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کینیا میں حکومت مخالف تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا سہارا لیا گیا ہو۔ گزشتہ ماہ جون میں بھی ایسے ہی احتجاجی مظاہروں کے دوران 19 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ ان میں ایک معروف استاد اور سماجی کارکن البرٹ اوجوانگ بھی شامل تھے، جن کی موت پولیس حراست میں ہوئی اور جس نے ملک بھر میں غم و غصے کی نئی لہر دوڑا دی۔

کینیا میں یہ تحریک 2024 کے اوائل میں شروع ہوئی تھی اور اب تک اس کا دائرہ ملک کے تمام بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے۔ سرکاری ریکارڈ سے ہٹ کر سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران اب تک 80 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جو تعلیم، روزگار اور سیاسی آزادی کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔

بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے کینیا میں جاری اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کینیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔

کینیا کی حزب اختلاف نے بھی حالیہ واقعات کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی جانب سے کینیا میں پولیس کی کے مطابق

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک