اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جوائنٹ وینچر کے نئے قوانین کی منظوری کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی نے جڑواں شہروں سمیت 13بڑے شہروں میں ہاﺅسنگ منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف جی ای ایچ اے حکام کے مطابق ملک میں بڑھتی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے اور بالخصوص وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے ارزاں رہائشی منصوبوں کے قیام کے لیے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی نے نجی شعبے سے جوائنٹ وینچر کو پرکشش اور کامیاب بنانے کے لیے ’جے وی اینڈ پی پی پی رولز 2025 ‘منظور کر لیے ہیں ۔ جس کے تحت فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اظہار دلچسپی کی حوصلہ افزا درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

ایف جی ای ایچ اے نے اس ضمن میں راولپنڈی ،اسلام آباد، اٹک، لاہور، پشاور، کوئٹہ ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، حیدر آباد، ایبٹ آباد، گوجرانوالہ اور کراچی میں جوائنٹ وینچر کی طرز پر نئے رہائشی منصوبے شروع کرنے کے لیے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کی ہیں۔

متعلقہ قواعد و ضوابط پر پورا اترنے والی فرمز، زمین مالکان، ڈویلپرز، انویسٹرز، کارپوریٹس ہاؤسنگ باڈیز اور افراد اظہار دلچسپی کی درخواستیں 30جون 2025 تک دے سکتے ہیں ۔ نئے ہاؤسنگ منصوبے وفاقی حکومت کے ملازمین اور عام لوگوں کے لیے جوائنٹ وینچر کی بنیاد پر شروع کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی جوائنٹ وینچر کے تحت رہائشی منصوبے شروع کرنے کے اقدامات کیے گئے تھے تاہم ’جے وی اینڈ پی پی پی رولز2020‘ میں سرمایہ کاروں اور فرمز کے حقوق کے تحفظ کی عدم موجودگی کے باعث یہ منصوبے شروع نہ کیے جاسکے تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ ’جے وی اینڈ پی پی پی رولز 2025‘سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کے لیے انتہائی پرکشش بنائے گئے ہیں اور ان رولز میں سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:اداکارہ سحر ہاشمی کو پاؤں دبانے اور اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے والے شوہر کی تلاش

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: جوائنٹ وینچر سرمایہ کاروں کے لیے

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن