خدا ہمارے اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو دائمی بنائے، صدر اردوان
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایکس پر وزیر اعظم پاکستان اور ان کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خدا ہمارے اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو دائمی بنائے۔
ترکیہ میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا استنبول میں پرتپاک خیرمقدم کیا۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں معیشت، تجارت اور سلامتی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر اردوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ترک زبان میں اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے معزز وفد کی میزبانی کرتے ہوئے خوشی محسوس کی۔
Bugün Pakistan Başbakanı, kıymetli dostum Sayın Şahbaz Şerif ile değerli heyetini İstanbul’da misafir etmekten büyük memnuniyet duydum.
Kendileriyle ekonomi, ticaret, güvenlik başta olmak üzere birçok kritik konuyu ele aldık.… https://t.co/HW7OSviI7G — Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) May 25, 2025
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے تاریخی، انسانی اور سیاسی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
صدر اردوان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے بقول دونوں ممالک نے ناقابلِ تسخیر دوستی، تعاون، یکجہتی اور بھائی چارے کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے جذبات شہباز شریف کے ذریعے پاکستانی بھائیوں تک پہنچاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہباز شریف کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔