ہ شیخ صالح بن حمید رواں برس حج کا خطبہ دیں گے، ولی عہد محمد بن سلمان نے منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
جدہ (اوصاف نیوز)سعودی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ شیخ صالح بن حمید رواں برس حج کا خطبہ دیں گے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس یوم عرفہ پر خطبہ شیخ صالح بن حمید دیں گے۔
یوم عرفہ (9 ذو الحج) کو حج کا نکتہ عروج سمجھا جاتا ہے اور یہ دن فریضہ حج ادا کرنے والوں کے لیے سب سے اہم دن ہوتا ہے اور دنیا بھر میں موجود مسلمان جو حج کے لیے مقدس سرزمین نہیں جاسکتے وہ اس دن روزہ رکھتے ہیں اور اللہ کے حضور عبادات کرتے ہیں۔
یوم عرفہ کا خطبہ جبل عرفات پر واقع مسجد نمرہ میں دیا جاتا ہے جو نماز ظہر اور عصر سے پہلے ہوتا ہے اور حاجی دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سربراہ امور حرمین شریفین شیخ عبدالرحمان السدیس نے اس تقرری پر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ تقرری مملکت سعودی عرب کی دینی حوالے سے عالمی سطح پر قیادت اور مذہبی اداروں کی مسلسل حمایت کی عکاس ہے اور اس بات کا بھی مظہر ہے کہ قیادت کی جانب سے حرمین شریفین پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
یورپی ملک مالٹا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہے اور
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔