حج کا خطبہ کون دیں گے؟ سعودی حکومت نے نام جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
مکہ مکرمہ:
سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ شیخ صالح بن حمید رواں برس حج کا خطبہ دیں گے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس یوم عرفہ پر خطبہ شیخ صالح بن حمید دیں گے۔
یوم عرفہ (9 ذو الحج) کو حج کا نکتہ عروج سمجھا جاتا ہے اور یہ دن فریضہ حج ادا کرنے والوں کے لیے سب سے اہم دن ہوتا ہے اور دنیا بھر میں موجود مسلمان جو حج کے لیے مقدس سرزمین نہیں جاسکتے وہ اس دن روزہ رکھتے ہیں اور اللہ کے حضور عبادات کرتے ہیں۔
یوم عرفہ کا خطبہ جبل عرفات پر واقع مسجد نمرہ میں دیا جاتا ہے جو نماز ظہر اور عصر سے پہلے ہوتا ہے اور حاجی دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سربراہ امور حرمین شریفین شیخ عبدالرحمان السدیس نے اس تقرری پر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ تقرری مملکت سعودی عرب کی دینی حوالے سے عالمی سطح پر قیادت اور مذہبی اداروں کی مسلسل حمایت کی عکاس ہے اور اس بات کا بھی مظہر ہے کہ قیادت کی جانب سے حرمین شریفین پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہے اور
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔