’خدا کے لیے بچوں کو پولیو سے بچائیں‘ 2025 کی تیسری انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سال 2025 کی تیسری قومی انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی۔
وزیر صحت نے پولیو مہم میں خدمات انجام دینے والے فرنٹ لائن ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قومی ہیرو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ مہم کے دوران ملک بھر میں 5 سال سے کم عمر قریباً 4 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت پولیو مہم شروع کی گئی ہے، کیونکہ دنیا میں صرف یہی 2 ممالک ایسے رہ گئے ہیں جہاں یہ مہلک وائرس اب بھی موجود ہے۔
وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ حالیہ نمونوں میں ملک کے 89 میں سے 50 اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دشمن وائرس ہمارے بچوں کے آس پاس ہر جگہ موجود ہے، اور اس کا واحد حل حفاظتی ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ہر حال میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں، تاکہ مستقل معذوری سے بچایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: لکی مروت اور بنوں سے پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ، رواں سال مجموعی تعداد 10 ہوگئی
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کینسر کا علاج ممکن ہے، لیکن پولیو اب بھی لاعلاج ہے۔ پوری دنیا نے اسی ویکسین کے ذریعے اس موذی مرض سے نجات حاصل کی۔ منفی باتوں کو ذہن سے نکالیں اور اپنے بچوں کو اس لاعلاج مرض سے محفوظ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ خدا کے لیے سوچیں، اگر آپ کا بچہ معذور ہو گیا تو آپ خدا کی عدالت میں گناہ گار ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور افغانستان کی آئندہ نسلوں کے محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے وہ دعا گو ہیں اور بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: اجتماعی کوششوں سے پولیو پر قابو پائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں عوامی نمائندوں کے ہمراہ چلائی گئی حالیہ پولیو مہم کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، اور پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کمیونٹی کی بھرپور شمولیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح پوری قوم نے بھارت کے خلاف متحد ہو کر مزاحمت کی، اسی طرح پولیو کے خلاف بھی پوری قوم کو سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پاکستان پولیو پولیو کا خاتمہ تیسری قومی انسدادِ پولیو مہم سید مصطفیٰ کمال نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر وفاقی وزیر صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان پولیو پولیو کا خاتمہ تیسری قومی انسداد پولیو مہم سید مصطفی کمال نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر وفاقی وزیر صحت بچوں کو پولیو پولیو مہم نے کہا کہ انہوں نے پولیو کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔