چین تائیوان پر اچانک حملے کی مکمل تیاری میں ہے، مغربی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی لڑاکا طیارے سرحد کو نظر انداز کرتے ہوئے مہینے میں 120 بار آبنائے تائیوان کی درمیانی لائن کو عبور کرتے ہیں۔ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ ’’یہ تائیوان کی فضائی حدود میں بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے، گزشتہ ماہ ایک ہی دن میں تائیوان کے قریب 153 چینی لڑاکا طیاروں نے پروازیں بھری تھیں۔ تائیوان کے ایک دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ چین کی فضائی طاقت میں اضافہ پی ایل اے اے ایف کے نئے لڑاکا طیاروں (J-10 ،J-16 اور J-20) کے ساحلی اڈوں پر ایندھن بھرے بغیر اندرون ملک اڈوں سے تائیوان تک پہنچنے کے قابل ہونے کی وجہ سے ہے۔ خصوصی رپورٹ:
امریکہ اور تائیوان کے حکام نے بین الاقوامی جریدے "فنانشل ٹائمز" کو بتایا ہے کہ چین نے تائیوان پر ناگہانی اور اچانک حملہ کرنے کے لئے عسکری صلاحیت پر توجہ دے رکھی ہے۔ مغربی میڈیا آؤٹ لیٹ نے تائیوان پر "ناگہانی" حملے کے لیے چین کی تیاریوں کے بارے میں لکھا ہے کہ چین کے بحری جہاز، میزائل اور فضائی حملے کے یونٹ مسلسل مشقیں کر رہے ہیں۔" اخبار کے مطابق چین کے J-10 ،J-20 فائٹر اور Y-20 ٹینکرز تائیوان پر "کارگر اور باسرعت حملوں"کی پوزیشن میں ہیں۔ تائیوانی اور امریکی ماہرین کے مطابق چین نے تیز تر فضائی اور زمینی آپریشنز کی تیاری، نئے توپ خانے، گھات کی مشقوں اور ایئر اسٹرائیک یونٹس کے ذریعے تائیوان پر اچانک حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔
تائیوان کے ایک سینئر فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ چین کی فضائیہ اور میزائل یونٹس، جو تائیوان پر حملے میں کردار ادا کریں گے، اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ "پیس کیپنگ آپریشنز کو کسی بھی وقت جنگی کارروائیوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔" امریکہ کی ایشیا پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل سیموئل پاپارو نے فروری میں کہا تھا کہ صورتحال اس مقام کے "بہت قریب" ہے، جہاں چین اپنی مشقوں کو حملے کی تیاری کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق چینی فوجی جنگی طیارے ایک ماہ میں 245 بار تائیوان کی فضائی حدود میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ پانچ سال پہلے ایک ماہ میں یہ تعداد 10 سے بھی کم تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی لڑاکا طیارے سرحد کو نظر انداز کرتے ہوئے مہینے میں 120 بار آبنائے تائیوان کی درمیانی لائن کو عبور کرتے ہیں۔ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ ’’یہ تائیوان کی فضائی حدود میں بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے، گزشتہ ماہ ایک ہی دن میں تائیوان کے قریب 153 چینی لڑاکا طیاروں نے پروازیں بھری تھیں۔ تائیوان کے ایک دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ چین کی فضائی طاقت میں اضافہ پی ایل اے اے ایف کے نئے لڑاکا طیاروں (J-10 ،J-16 اور J-20) کے ساحلی اڈوں پر ایندھن بھرے بغیر اندرون ملک اڈوں سے تائیوان تک پہنچنے کے قابل ہونے کی وجہ سے ہے۔ اہلکار کے مطابق اس کے Y-20 ایندھن بھرنے والے ٹینکر "اپنے جنگی صلاحیت کے دائرے کو بڑھا رہے ہیں۔"
چینی بحریہ 2022 سے بحرالکاہل تک واحد رسائی کے نقطے میاکو آبنائے اور باشی چینل کے داخلی راستے پر ٹائپ 052D تباہ کن جنگی جہازوں کو تعینات کر رہی ہے۔ تائیوان کے سابق فوجی کمانڈر یانگ تائی یوان کا کہنا ہے کہ تائیوان پر حملہ کرنے کے لیے چینی جنگی جہازوں کو "بہت جلد بحرالکاہل کی طرف جانا پڑے گا۔" پینٹاگون کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً ایک درجن چینی بحری جہاز تائیوان کے گرد مستقل طور پر تعینات ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ چینی بحریہ اور اس سے منسلک بحری جہاز "گھنٹوں میں تائیوان کا محاصرہ کر سکتے ہیں۔" تائیوان کے ایک دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ ان جنگی جہازوں کی موجودگی کا مطلب ہے کہ چین بغیر کسی پیشگی انتباہ کے فضائی حملہ کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تائیوان کے ایک لڑاکا طیاروں تائیوان پر تائیوان کی چینی لڑاکا ہے کہ چین کے مطابق کی فضائی حملہ کر چین کی
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔