سندھ حکومت کی دیگر شہروں میں بھی الیکٹرک بس سروس شروع کرنے کیلیے کوششیں تیز
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کراچی:
کراچی کے بعد سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں بھی الیکٹرک بس سروس شروع کرنے کے لیے حکومت سندھ نے کوششیں تیز کر دیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن سے کراچی میں ملاقات کی جس میں صوبے کے تیزی سے ترقی پذیر ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ممکنہ سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ اسد ضامن اور منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کمال دایو نے بھی شرکت کی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد کی جانب سے سندھ کے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے وفد کو خوش آمدید کہا اور سندھ کی ترقی میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کردار کی تعریف کی۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے سندھ کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں دلچسپی کو خوش آئند سمجھتے ہیں، ہماری حکومت پبلک ٹرانسپورٹ میں انقلابی تبدیلی کے لیے پُرعزم ہے اور پائیدار ٹرانسپورٹ ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس کراچی میں شروع کر چکے ہیں، جسے عوام کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ کا مستقبل صاف توانائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل میں ہے۔ سندھ کے عوام کو جدید، سستی اور ماحول دوست سفری سہولیات دے رہے ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے ہم اپنے منصوبوں کی رفتار میں تیزی لا سکتے ہیں۔
سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں تیزی سے کام کرنا چاہتے ہیں اور کراچی کے بعد دیگر بڑے شہروں میں بھی الیکٹرک بس سروس کا دائرہ کار بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، حکومت سندھ ہر سطح پر سہولت کاری کے لیے تیار ہے تاکہ منصوبوں پر تیزی سے اور شفاف انداز میں عمل درآمد ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشیائی ترقیاتی بینک الیکٹرک بس سروس سندھ کے کے لیے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔