سندھ پیپلزپارٹی کا قلعہ ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی نے تیسری دفعہ حکومت قائم کی ہے۔ ایک وقت تھا جب پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی سیاسی جماعت ہوتی تھی، وفاق کی علامت ہوتی تھی۔ لیکن عملی طور پر پیپلزپارٹی اب سندھ کی جماعت ہی بن کر رہ گئی ہے۔
پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بلوچستان میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ لیکن بلوچستان میں حکومت کیسے بنتی ہے سب کو علم ہے۔ ویسے تو جس کی وفاق میں حکومت ہو اسی کی بلوچستان میں حکومت بن جاتی ہے۔ اس وقت مرکز میں پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ اس لیے بلوچستان میں بھی دونوں جماعتوں کی ہی حکومت ہے۔ گزشتہ دور میں وہاں باپ پارٹی اور تحریک انصا ف کی حکومت تھی۔ اب دونوں جماعتوں کا بلوچستان میں وجود ہی نہیں ہے۔
پیپلزپارٹی کا مرکزی حکومت میں ایک وزن ہے۔ وہ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی ہے لیکن یہ سب سندھ کے سر پر ہے۔ ان کی سیٹوں کی اکثریت سندھ سے ہے، ان کی سیاست کا مرکز سندھ ہے۔ وہ مرکز کے بڑے اتحادی ہیں لیکن سندھ کی طاقت پر ان کا یہ اتحاد ہے۔ اس لیے اس وقت عملی طورپر پیپلزپارٹی سندھ کی جماعت ہے۔
وہ باقی صوبوں میں سیاسی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب پر بہت توجہ ہے لیکن جب بھی سندھ کی بات آتی ہے پیپلزپارٹی سیاسی طور پر پنجاب کی قربانی دے دیتی ہے۔ حال ہی میں نہروں کے معاملہ پر بھی پیپلزپارٹی نے سندھ کو پنجاب پر ترجیح دی ہے۔ انھوںنے سندھ کے ووٹ بینک کو پنجاب کے ووٹ بینک پر ترجیح دی ہے۔ ہم اس کے سیاسی اثرات دیکھتے ہیں۔ پنجاب میں ان کا ووٹ بینک کم ہوتا رہتا ہے۔
لیکن خطرہ کی بات یہ ہے کہ آج کل پیپلزپارٹی کے سیاسی قلعہ سندھ پر بھی سیاسی نقب لگ رہی ہے۔ وہاں نہروں کے معاملہ پر احتجاج رکے نہیں ہیں۔ بلکہ سندھ قوم پرستوں کے احتجاج پر تشدد ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ سندھ میں نوشہرہ فیروز میں نہروں کے معاملہ پر پرتشدد احتجاج ہو ئے اور وہاں مظاہرین نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کے گھر کو آگ لگا دی۔ اس سے پہلے وہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیر کھیل داس کوہستانی کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔ لیکن تب ہم سب کا خیال تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے سندھ میں غصہ ہے۔ لیکن کیا وہاں لوگوں میں پیپلزپارٹی کے لیے بھی غصہ ہے۔ کیا پیپلزپارٹی بھی مشکل میں ہے۔ یہ ایک عجب سوال ہے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوئی ہے۔پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو کا قافلہ جامشورو سے گزر رہا تھا تو سندھ قوم پرست مظاہرین نے آصفہ بھٹو کے قافلہ پر حملہ کر دیا ۔ میں سمجھتا ہوں یہ پیپلز پارٹی کے لیے بہت خطرناک ہے۔ آصفہ بھٹو تو وہاں سے بلا مقابلہ منتخب ہوئی تھیں۔ کوئی ان کے مقابلہ میں انتخاب لڑنے کو تیار نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سندھ کے لوگوں کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شکل نظر آتی ہے۔ وہ تو سندھ میں بہت مقبول ہیں اور اب سندھ قوم پرستوں کی جانب سے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہیں۔ ان واقعات نے بہت سے سیاسی سوالات جنم دے دیے ہیں۔
کیا سندھ کے قوم پرست سیاسی طور پر اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ محترمہ آصفہ بھٹو پر حملہ کر سکیں؟ کیا اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے وزیر داخلہ کے گھر کو آگ لگا سکیں؟ کیا سندھ پیپلزپارٹی کے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟
نہروں کے معاملہ پر پیپلزپارٹی نے وکٹ کے دونوں طرف کھیلا ہے۔ پہلے وہ نہروں والے معاملہ کے ساتھ تھی۔ لیکن پھر سندھ کے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اپنا سیاسی موقف بدل لیا۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں نہروں کے مخالف سیاسی احتجاج کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ ملک کی ہائی ویز بند ہو گئیں۔ پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہو گیا۔ لیکن پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے ہائی ویز نہیں کھلوائیں۔ ایسا نہیں کوئی ہزاروں لوگ سڑکوں پر بیٹھے تھے‘ چند سو لوگ تھے۔ ملک بند ہوگیا لیکن پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کوئی ایکشن لینے کے لیے تیارنہیں تھی۔
ہمیں بتایا گیا کہ اگر پیپلزپارٹی ایسا نہیں کرتی تو سندھ پیپلزپارٹی کے ہاتھ سے نکل جاتا۔ پیپلز پارٹی کی سیاست داؤ پر لگ گئی تھی۔ پیپلزپارٹی کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی والے مانتے تھے کہ ایک اجلاس میں صدر آصف زرداری نے نہروں کی منظوری دی تھی لیکن پھر حالات بدل گئے اور پیپلزپارٹی نہروں کے خلاف احتجاج میں شامل ہو گئی۔
پیپلزپارٹی نے خود جلسہ جلوس کرنے شروع کر دیے تھے۔ بلاول خود بھی میدان میں آگئے۔ ویسے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حالت بھی کوئی مختلف نہیں تھی۔ مرکز اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نہریں بننے کی حامی تھی۔ لیکن سندھ کی ن لیگ نہروں کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں یہ کوئی اچھی سیاسی حکمت عملی نہیں تھی۔
اسکرپٹ تو بہترین تھا۔ پیپلزپارٹی پہلے احتجاج میں شامل ہوئی۔ نہروں کے خلاف ماحول خود ہی بنانا شروع کر دیا۔ اگر پیپلزپارٹی شامل نہ ہوتی تو شاید ایشو اتنا بڑا بنتا بھی نا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے شامل ہو کر مسئلہ کو بڑا کر دیا۔ اب پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ وہ نہروں کا منصوبہ ختم کروا کر سندھ میں ہیرو بن جائیں گے۔ وہ سندھ میں کہیں گے کہ پیپلزپارٹی نے نہریں ختم کروا دی ہیں۔ اور ہوا بھی یہی، وزیر اعظم نے پیپلز پارٹی کے دباؤ میں نہروں کا منصوبہ ختم کر دیا۔ لیکن پیپلزپارٹی نہروں کا منصوبہ ختم کروا کر جس طرح سندھ میں ہیرو بننا چاہتی تھی وہ نہیں بن سکی۔
یہی خطرہ کی گھنٹی ہے۔ سندھ قوم پرست پیپلزپارٹی کو ہیرو بننے نہیں دے رہے۔ وہ پیپلزپارٹی کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کو پہلی دفعہ کوئی امید کی کرن نظرآئی ہے، وہ اس موقع کو غنیمت جان رہے ہیں، لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے اندرون سندھ ووٹ بینک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پر تشدد مظاہروں سے پیپلز پارٹی کا اندرون سندھ موجود سیاسی خوف ختم کیا جا رہا ہے۔ وہ اپنی سیاسی حقیقت منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی سے غلطی ہوگئی۔ ان کو پہلے ہی روکنا تھا۔ پہلے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اب یہ پیپلز پارٹی کو کھا رہے ہیں۔ سیاست اسی چیز کا نام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نہروں کے معاملہ پر کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان مسلم لیگ لیکن پیپلزپارٹی پیپلزپارٹی کے پیپلزپارٹی کی پیپلزپارٹی نے بلوچستان میں پیپلز پارٹی ا صفہ بھٹو ووٹ بینک پارٹی کی پارٹی نے پارٹی کے پارٹی کا پر حملہ سندھ کی سندھ کے کے خلاف کر دیا کوئی ا کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔