سکندر رضا کی کمٹمنٹ کے چرچے، عماد وسیم نے پیسے کا معاملہ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے کرکٹر سکندر رضا کی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) ٹیم لاہور قلندرز سے کمٹمنٹ کو پیسے سے جوڑا دیا۔
پاکستانی نژاد زمبابوین کرکٹر سکندر رضا کی پی ایس ایل 10 کے فائنل میں لاہور قلندرز کی ٹیم میں غیر متوقع واپسی اور وِننگ شاٹ کھیلنے کے حوالے سے دنیا بھر میں ان کی کمٹمنٹ کے چرچے ہو رہے ہیں۔
جہاں سکندر رضا کو کرکٹ شائقین کی جانب سے بے حد پزیرائی مل رہی ہے وہیں اس معاملے پر عماد وسیم نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے شو میں راولپنڈی ایکسپریس، شعیب اختر کے ساتھ بطور تجزیہ کار شرکت کرنے والے عماد وسیم سے پوچھا گیا کہ سکندر رضا کو ایک لفظ میں بیان کریں؟
اس کے جواب میں عماد وسیم نے کہا کہ جیسا شعیب اختر نے کہا پیسہ آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے، میرا بھی سکندر رضا کی کمٹمنٹ پر یہی ردِ عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کو معاوضہ مل رہا ہے تو آپ جائیں گے، میں بھی بہت سفر کرتا رہا ہوں، کبھی کبھی ایک میچ ختم ہوتا ہے اور اگلے دن آپ کسی دوسرے ملک میں دوسرا میچ کھیل رہے ہوتے ہیں، میں نے 24 گھنٹے تک سفر کیا اور براہِ راست بھی میچ میں گیا ہوں، پیسہ آپ سے مختلف چیزیں کروا سکتا ہے۔
عماد وسیم کا کہنا تھا کہ سکندر رضا بہترین کھلاڑی ہیں، وہ گزشتہ چند سال سے دنیا بھر میں مسلسل کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، سکندر نے اپنی ٹیم کے لیے آئی ایل ٹی 20 کا فائنل بھی جیتا تھا، وہ ایک شاندار انسان اور ٹیم کے اچھے کھلاڑی ہیں۔
یاد رہے کہ دو روز قبل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل 10 کے فائنل کے لیے کرکٹر سکندر رضا ٹاس ہونے سے محض چند منٹ قبل ہی لاہور پہنچے تھے۔
سکندر رضا نے ناٹنگھم میں انگلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ میں زمبابوے کی نمائندگی کرنے کے لیے لاہور قلندرز کی ٹیم سے چھٹی لی جس کی وجہ سے ان کی پی ایس ایل فائنل میں شرکت غیر یقینی تھی۔
سکندر رضا نے ٹاس سے دس منٹ قبل لاہور قلندرز کے اسکواڈ میں دوبارہ شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاہور قلندرز سکندر رضا کی پی ایس ایل کے لیے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔