'ہم مذاق کر رہے تھے‘، صدر ماکروں کا بیوی کے 'تھپڑ ‘ پر تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 مئی 2025ء) فرانسیسی صدر ماکروں نے پیر کو اس واقعہ کو محض مذاق قرار دیا جس میں فرسٹ لیڈی بریگزٹ کو کیمروں کے سامنے اپنے شوہر کو چہرے پر "تھپڑ مارتے" یا دھکیلتے ہوئے دیکھایا گیا تھا۔ تاہم اس منظر، جو اتوار کو جنوب مشرقی ایشیا کے دورے کے آغاز کے لیے ان کے طیارے سے اترنے سے چند لمحے قبل پیش آیا تھا، نے فرانس میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر بڑا رد عمل سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ "گھریلو جھگڑا" ہونے کی تردید کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ وہ "مذاق کر رہی تھیں، جیسا کہ ہم اکثر کرتے ہیں۔"
ماکروں نے مزید کہا، "ہم واقعی تفریح کر رہے تھے اور مذاق کر رہے تھے۔ اس واقعے کو مبالغہ آرائی سے اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ یہ ایک قسم کی جغرافیائی-عالمی جنگ میں بدل گیا ہے۔
(جاری ہے)
"ماکروں کے دفتر نے اس سے قبل بھی اسی طرح کی وضاحت پیش کی تھی۔ ماکروں کے دفتر نے کہا تھا کہ یہ صدر اور ان کی اہلیہ کے لیے سفر شروع کرنے سے پہلے آخری بار مذاق کرنے کا ایک پرسکون لمحہ تھا۔ یہ ایک دوستانہ لمحہ تھا جس کا سازشی نظریات کے حامل لوگوں نے غلط استعمال کیا ہے۔
خیال رہے ماکروں نے 2007 میں اس وقت شادی کی تھی جب وہ ہائی اسکول میں طالب علم تھے اور ان کی اہلیہ وہاں ایک استاد تھیں۔
ہم اس واقعے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ویتنام کے ہنوئی پہنچنے پر ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے اتوار کو ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں ایک شخص کو رسمی لباس میں طیارے کا دروازہ کھولتے ہوئے دکھایا گیا جب کہ صدر ماکروں اندر کھڑے ہیں اور رسمی لباس پہنے ہوئے ہیں اور کسی اوجھل شخص سے بات کر رہے ہیں۔
اس دوران سرخ آستینوں والی دو بازو باہر نکلے اور ماکروں کو دور دھکیل دیا۔
ایک ہاتھ نے ان کے منہ اور ناک کا کچھ حصہ ڈھانپ لیا۔ دوسرا ہاتھ ان کی جبڑے کی ہڈی پر لگا۔ فرانسیسی صدر پیچھے ہٹ گئے اور اپنا سر دوسری طرف موڑ لیا۔ پھر بظاہر یہ احساس کرتے ہوئے کہ وہ کیمرے میں نظر آ رہے ہیں وہ مسکرائے اور ہاتھ ہلایا۔بعد کی تصاویر میں ماکروں اور ان کی اہلیہ طیارے کی سیڑھیوں کے اوپری حصے پر نظر آ رہے تھے جہاں انہوں نے اپنا بازو ان کی طرف بڑھایا لیکن انہوں نے اسے نہیں پکڑا اور وہ قالین پوش سیڑھیاں ساتھ ساتھ اترے۔
یہ 'روسی پروپیگنڈہ' ہےفرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ روسی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی (سابقہ روس ٹوڈے) نے اشارہ دیا تھا کہ ماکروں کو ان کی اہلیہ نے مارا پیٹا ہے۔
یہ فوٹیج روس کے سرکاری ٹی وی پر متعدد بار چلائی گئی اور ماکروں کے مخالف اکاؤنٹس پر آن لائن گردش کر چکی ہے۔
پیر کے روز، روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ جب جوڑے ہنوئی پہنچے تو ایمانوئل ماکروں کو "اپنی بیوی کی طرف سے دایاں مکّا" ملا۔
اس سے قبل زاخارووا اور امریکی سازشی نظریہ ساز الیکس جونز نے ماکروں اور ان کے جرمن اور برطانوی ہم منصبوں پر یوکرین سے آنے والی ٹرین میں منشیات کے استعمال کا غلط الزام لگایا تھا۔
انہوں نے یہ الزام ایک کم ڈیفینیشن والی ویڈیو کی بنیاد پر لگایا جس میں دکھایا گیا تھا کہ انہوں نے مڑے ہوئے ٹشو پیپر کو کوکین کی پڑیا سمجھ لیا تھا۔
اگرچہ ان دعوؤں کو بعد میں رد کر دیا گیا، لیکن ایلیسی پیلس اور فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ان کی اہلیہ انہوں نے رہے تھے کی طرف کر رہے اور ان
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔