سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2025ء) سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب سمیت 3 ممالک میں ذی الحج کا چاند نظر آ گیا۔ عمان خلیجی ممالک میں پہلا ملک ہے جہاں ذی الحج 1446 ہجری کا چاند نظر آیا، جس کے بعد سعودی عرب میں بھی ذی الحج کا چاند نظر آ گیا۔ سعودی عرب اور عمان میں یکم ذی الحج 1446 ہجری 28 مئی کو ہو گی جبکہ عید الاضحٰی 6 جون کو منائی جائے گی۔
جبکہ پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کو ملک کے کسی علاقے سے ذی الحج کے چاند کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہ ہوئی، لہذا ملک میں یکم ذی الحج 29 مئی بروز جمعرات جبکہ عید الاضحٰی 7 جون بروز ہفتہ کو ہو گی۔ عمان اور پاکستان سے پہلے 3 اسلامی ممالک نے عید الاضحٰی کی تاریخ کا اعلان کیا، انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی دارالسلام کے علاوہ جاپان میں بھی عید قربان کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا۔(جاری ہے)
انڈونیشیا میں دنیا میں سب سے پہلے ذی الحج 1446 ہجری کا چاند نظر آیا۔ انڈونیشیا میں عید الاضحٰی 6 جون بروز جمعہ کو منائی جائے گی۔ جبکہ جاپان میں دنیا میں سب سے پہلے عید الاضحٰی 1446 ہجری کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا۔ جاپان کی رویت ہلال کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق جاپان میں آج چاند نظر نہیں آیا، لہذا جاپان میں یکم ذی الحج 29 مئی بروز جمعرات جبکہ عید الاضحٰی 7 جون بروز ہفتہ کو ہو گی۔ ملائیشیا اور برونائی دارالسلام میں اعلان کیا گیا ہے کہ ذی الحج کا چاند نظر نہیں آیا، لہذا ان ممالک میں عید الاضحٰی 7 جون بروز ہفتہ کو ہو گی۔ دوسری جانب ماہر فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں عیدالاضحیٰ 7 جون کو ہونے کے امکانات ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں حج 5 جون ،عید 6 جون کو ہونے کے امکان ہیں، سعودی عرب میں 27 مئی کو ٹیلی سکوپ سے چاند نظر آنے کے امکانات ہیں۔ عیدالاضحیٰ کا چاند ملک بھر میں 28 مئی کو نظر آنے کے واضح امکانات ہیں جبکہ 27 مئی کو پاکستان میں چاند نظر آنے کے امکانات نہیں،آج غروب آفتاب کے وقت ملک بھر میں چاند کی عمر 11 گھنٹے ہوگی۔ جبکہ 28 مئی کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 35 گھنٹے سے زائد ہوگی۔ جبکہ متحدہ عرب امارات کے معروف ماہر فلکیات نے یکم ذی الحج اور عید الاضحٰی کی ممکنہ تاریخیں بتا دیں۔ ایمریٹس آسٹرونومی سوسائٹی کے سربراہ ابراہیم الجروان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں ذی الحجہ کے آغاز کا ہلال کا چاند 27 مئی کو نظر آنے کا امکان ہے جس سے 28 مئی کو اسلامی مہینے کا پہلا دن ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں 6 جون بروز جمعہ کو عید الاضحٰی ہونے کا امکان ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ذی الحج کا چاند نظر آ گیا میں ذی الحج عید الاضح ی یکم ذی الحج جاپان میں ممالک میں گیا ہے کہ کو ہو گی مئی کو
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔