ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ 10 گنا تک بڑھانے کا فیصلہ، مریم نواز نے ملک کی سب سے بڑی ماڈل کیٹل مارکیٹ کا افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر +نوائے وقت رپورٹ) پنجاب میں ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ10گنا تک بڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ مریم نواز کی زیرصدارت خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر والد ذمہ دارقرار اور مقدمہ بھی درج ہوگا۔ گاڑی سے باہرخطرناک انداز سے لٹکتے سریا وغیرہ پر گاڑی بند کردی جائے گی اور ون ویلنگ یا خطرناک طرزکی ڈرائیونگ پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ بڑے روڈز کے اطراف میں سامان سے لدی ٹرالیاں کھڑی کرنے پر پابندی لگانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ خراب یا بند ہیڈ لائٹسں کے ساتھ ڈرائیونگ پر سخت کارروائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے لاہور میں بیدیاں اور دیگر روڈز پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں فوری دور کرنے کا حکم دیا اور ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو اور تصویری ثبوت منسلک کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ کی زیرصدارت خصوصی اجلاس میں ٹریفک پولیس کی یونیفارم تبدیل کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا اور ٹریفک پولیس کی پانچ کیٹگری بنانے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ انفورسمنٹ آفیسر، ٹریفک ریگولیٹر، ایجوکیشن لائسنسنگ اور پبلک سروس آفیسر کی کیٹگری بنائی جائے گی۔ شفافیت کے لئے ٹریفک وارڈن ان کیمرہ ٹریفک چالان کریں گے۔ پنجاب کے 372 اور لاہور کے 77 پوائنٹس کی ری ماڈلنگ پر غور کیا گیا۔ مریم نواز نے ٹریفک جام کی پیشگی نشاندہی کے لئے روڈ سائیڈ ڈیجیٹل سکرین لگانے کا حکم دیا۔ دوران ڈرائیونگ موبائل کے استعمال پر بھاری جرمانہ عائد کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ٹریفک پولیس کو جدید پٹرول وہیکل اور جدید ترین آلات دینے کی منظوری دے دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ٹریفک کے نظام میں بہتری نظر نہیں آرہی ہے، ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرنے ہوں گے۔ٹریفک حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے موثر اقدامات ہی کامیابی ہے۔ خود نکل کر شہر کے مختلف سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہوں۔ علاوہ ازیں مریم نواز شریف نے شاہ پور کانجراں میں ملک کی سب بڑی ماڈل کیٹل مارکیٹ کا افتتاح کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے شاہ پور کا نجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ کا دورہ کیا اور دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ کو ماڈل کیٹل مارکیٹ پراجیکٹ بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور کی شاہ پور کانجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ میں 25 ہزار بڑے جانور اور ڈیڑھ لاکھ چھوٹے جانور کی گنجائش ہوگی۔ 74 -ایکڑ رقبے پر قائم ماڈل کیٹل مارکیٹ میں مویشیوں کیلئے 20 بڑے شیڈ بنائے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ جانوروں کے شیڈ میں پنکھے بھی لگائے گئے ہیں۔ شاہ پور کانجراں ماڈل کیٹل مارکیٹ میں مویشیوں کو وبائی امراض سے بچانے کیلئے قرنطینہ سینٹر بھی بنایا گیا۔ بیوپاریوں کے لئے 20 بڑے رہائشی کمرے بھی بنائے گئے ہیں۔ کیٹل مارکیٹ میں مسجد، واش روم، وٹرنری کلینک،ٹک شاپ، نک اور اے ٹی ایم بھی ہوگی۔ مویشیوں کی نقل و حمل میں آسانی کے لئے لوڈنگ،ان لوڈنگ بے(Bay) اور ٹرک سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔ وسیع پارکنگ، پولیس چوکی اور وسیع وعریض اوپن ایریا آکشن بے(Bay) بھی قائم اور جدید ترین سلاٹر ہاؤس بھی موجود ہے۔ پنجاب کی دوسری بڑی ماڈل کیٹل مارکیٹ جھنگ میں بنائی جائے گی۔ دوسری جانب مریم نواز نے فیروزوالا میں پیپر مل میں زہریلی گیس سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور فیکٹریوں اور صنعتی اداروں میں ورک سیفٹی پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد یقینی کوبنانے کا حکم دیا۔ ورلڈ مارکیٹنگ ڈے پر پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ جدید دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، برانڈنگ نہ صرف کاروباری ترقی کا مؤثرذریعہ ہے بلکہ قومی ترقی کا ستون بھی ہے۔ مارکیٹنگ جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ماہرینِ مارکیٹنگ،اداروں،طلبہ و طالبات اور مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے شاہ پور کا کیا گیا گئے ہیں کے لئے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔