امیر مقام کا میرپور میں یومِ تکبیر پر جلسے کا اعلان، ہزاروں افراد کی شرکت متوقع
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پشاور: وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے یومِ تکبیر کے موقع پر پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی یومِ تکبیر کی خوشیاں اسی جذبے، ولولے اور قومی یکجہتی کے ساتھ منائی جائیں گی جیسے ملک بھر میں منائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آج شام پانچ بجے میرپور، آزاد کشمیر میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوگا، جس میں ہزاروں افراد شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ نہ صرف قومی یکجہتی کا مظہر ہوگا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ کشمیری عوام بھی پاکستان کی ایٹمی طاقت پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وہ پشاور سے روانہ ہو رہے ہیں تاکہ میرپور کے اس تاریخی جلسے میں شرکت کر سکیں اور کشمیری عوام کے جذبے کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کیا جا سکے۔
Post Views: 4
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔