کوہاٹ: دریائے سندھ خوشحال گڑھ کے مقام پر مسافروں سے بھری کشتی ڈوب گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
کوہاٹ میں دریائے سندھ خوشحال گڑھ کے مقام پر کشتی ڈوب گئی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں 9 افراد سوار تھے۔
رپورٹ کے مطابق ریسکیو1122 نے کہا کہ کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122مو قع پر پہنچ گئی، ریسکیو1122 غوطہ خوروں نے ڈوبنے والوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ریسکیو1122 کے مطابق ریسکیو آپریشن میں مقامی غوطہ خوروں کے ساتھ مل کر 7 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، 2 ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
کوہاٹ: سرچ آپریشن میں کوہاٹ، نوشہرہ اور کرک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، سرچ و ریسکیو آپریشن کی نگرانی عارف خٹک ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کوہاٹ کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔