راولپنڈی: محکمہ تعلیم کے دفتر سے 9600 سے زائد کتابیں چوری کرنے والے دو افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
تھانہ سٹی پولیس نے محکمہ تعلیم کے دفتر سے 9600 سے زائد کتابیں چوری کرنے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 9600 کتابیں برآمد کی گئیں جن کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔ یہ کتابیں حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے پرائمری طلبا و طالبات کے لیے پرنٹ کروائی گئی تھیں اور انہیں مختلف اسکولوں میں مفت فراہم کیا جانا تھا۔
چوری کی اطلاع پر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) سید خالد ہمدانی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ملوث ملزمان کی گرفتاری اور چوری شدہ کتب کی فوری برآمدگی کا حکم دیا تھا۔
تھانہ سٹی پولیس نے ٹیکنیکل ذرائع اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا بلکہ تمام چوری شدہ کتابیں بھی برآمد کر لیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کو بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔
ترجمان پولیس کے مطابق زیر حراست افراد کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا تاکہ انہیں عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک