بھارت 24 کروڑ عوام کا پانی روکنا چاہتا ہے جو کبھی نہیں ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
بھارت 24 کروڑ عوام کا پانی روکنا چاہتا ہے جو کبھی نہیں ہوگا، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز
لاچین:پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دوسرا سہ فریقی اجلاس آذربائیجان کے شہر لاچین میں منعقد ہوا جس میں آذربائیجان کے صدر الہام علییوف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ اجلاس میں تینوں برادر ممالک کے مابین دفاعی، اقتصادی، سیاسی اور سفارتی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہمارے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے جو کبھی نہیں ہوگا، پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ترکیہ اور آذر بائیجان جیسے دوست موجود ہیں۔
یہ بات انہوں نے آذر بائیجان کے شہر لاچین میں ترکیہ، پاکستان اور آذر بائیجان سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف نے بھی خطاب کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کانفرنس کی میزبانی پر صدر آذر بائیجان الہام علیوف کے شکرگزار ہیں، تینوں ممالک مشترکہ مذہب، اقدار اور ثقافت میں جڑے ہیں اور تینوں بنیادی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس ترکیہ اور آذر بائیجان جیسے دوست موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کی آڑ میں بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا جب کہ پاکستان نے اس واقعے کی بھرپور تحقیقات کی پیشکش کی، بھارت نے اس واقعے کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور بغیر شواہد کے الزام پاکستان پرعائد کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کے صدر اور عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی اور بہترین میزبانی پر صدر الہام علییوف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین دوستوں کے ہمراہ اس ہال میں موجود ہونے پر بےحد خوشی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس سے قبل آستانہ میں ہمارا سہ فریقی اجلاس ہوا تھا اور موجودہ اجلاس اس عزم کا اعادہ ہے کہ ہم نے تعاون اور دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک مشترکہ مذہب، اقدار، شفافیت اور تاریخ میں بندھے ہیں اور بنیادی ایشوز پر ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو پلوامہ اور پہلگام واقعے پر تحقیقات کے لیے تعاون کی پیش کش کی گئی تھی، مگر بھارت نے بغیر شواہد کے پاکستان پر الزام لگایا اور اس واقعے کی آڑ میں جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس ترکیہ اور آذربائیجان جیسے سچے دوست موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تینوں ممالک اعلیٰ اقدار، امن اور انصاف کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ سہ فریقی اجلاس ہم سب کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک، بھارت جنگ بندی باعث اطمینان، خطے کے امن کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں گے،ترک صدر پاک، بھارت جنگ بندی باعث اطمینان، خطے کے امن کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں گے،ترک صدر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 29 تا 30 مئی ہانگ کانگ کا دورہ کریں گے امیر کے حکم کیخلاف پاکستان میں لڑنا جائز نہیں، افغان طالبان کا فتنۃ الخوارج کو انتباہ پاکستان اور ایران کا زائرین کیلئے بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ یوم تکبیر پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس اور سروسز چیفس کی عوام کو مبارکباد پاکستان کو ایٹمی قوت بنے 27 سال مکمل، یوم تکبیر آج ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔