یورینیم افزودگی کے بارے ہمارا کسی کیساتھ کوئی مذاق نہیں، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران و امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے نئے دور کی تاریخ آئندہ چند دنوں میں واضح ہو سکتی ہے! اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے عمان کی ثالثی میں ایران و امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے چھٹے دور کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات کے نئے دور کی تاریخ آئندہ چند دنوں میں واضح ہو سکتی ہے۔ صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس دورے اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ملاقات میں مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ البتہ یہ ایک فطری سی بات ہے کہ اس دوران باہمی مشاورت اور خیالات کا تبادلہ ہوا ہے، لیکن اس سفر کا نچوڑ صرف مذاکرات ہی نہیں.
سید عباس عراقچی نے مسقط میں ایرانی صدر ڈاکٹر محمد مسعود پزشکیان کی موجودگی اور ہونے والی مشاورت کے بارے کہا کہ سب کچھ ٹھیک سے ہو گیا، اور اب عمانی و ایرانی کارکنان کے ساتھ ایک اجلاس ہے جو صدر کی آمد پر شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، اور باہمی احترام اپنی بلند ترین سطح پر استوار ہے جبکہ مشترکہ مفادات کا حصول ہی ہمارے باہمی تعاون کا واحد معیار ہے جیسا کہ فریقین دونوں ممالک کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے مکمل نیک نیتی کے ساتھ عمل کر رہے ہیں۔
ایران میں یورینیم افزودگی کے بارے گذشتہ شب کے اپنے بیان کے بارے انہوں نے کہا کہ یہ ایک برطانوی اہلکار کے بیان کے جواب میں تھا کہ جس نے "صفر افزودگی" کے بارے بات کی تھی جبکہ میں نے واضح کیا ہے کہ ہم نے ایک عرصے تک 3 یورپی ممالک کے ساتھ گفتگو جاری رکھی ہے لیکن اگر ان کا موقف "صفر" ہے تو ہمیں ان کے ساتھ جوہری افزودگی کے معاملے پر کوئی بات ہی نہیں کرنی اور وہ اس بارے اپنی ذمہ داریوں کو واضح کریں! انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یورینیم افزودگی کے بارے ہمارا کسی کے ساتھ کوئی مذاق نہیں!!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی مذاکرات کے افزودگی کے کی تاریخ کے ساتھ کے بارے کہا کہ
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔