آئی ایم ایف سے مذاکرات: حکومت کسی شے کی امدادی قیمت کا اعلان کریگی نہ خریدے گی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد( عترت جعفری+ نوائے وقت رپورٹ ) پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ کے امور کے حوالے سے بات چیت آگے بڑھ رہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو یہ بتایا گیا کہ حکومت گندم سمیت کسی بھی کموڈیٹی کی سپورٹ پرائس کا اعلان نہیں کرے گی اور نہ وفاق کی طرف کی سے خریدداری کی جائے گی۔وفاقی فوڈ سکیورٹی کی وزارت صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر نئی فوڈ سکیورٹی فریم ورک تیار کر رہی ہے، اسی فریم ورک کے تحت پاسکو کو بند کرنے کی تجویز ہے اور اس کی جگہ ایک نیا ادارہ بنایا جائے گا جس کے سٹیک ہولڈر میں وفاقی حکومت، صوبوں کے خوراک کے تمام ادارے، ملک کے دو ریجن شامل ہوں گے، صوبوں کے اینٹی کرپشن کے اداروں کو ایف ایم یو کی طرف سے فراہم کردہ انٹیلیجنس پر کارروائی کا اختیار دیا جائے گا، پنجاب اور سند میں آبپاشی ٹیرف کی ایڈجسٹمینٹ کی جائے گی۔ بعد ازاں اس کا دائرہ کے پی کے اور بلوچستان تک بڑھا دیا جائے گا، اس اقدام کا مقصد اپ اری گیشن کی آپریشنل اور مرمت کی کاسٹ کو وصول کرنا ہے، گیسولین اور ڈیزل پر بجٹ میں ضمنی کاربن لیوی آئل کی جائے گی جو پی ڈی ایل کا حصہ ہو گی، یہ پانچ روپے فی لیٹر تک مرحلہ وار عائد ہو گی اور فیول آئل کو بھی پی ڈی ایل کے دائرہ اختیار میں شامل کر دیا جائے گا۔ بجٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں پر ٹیرف کی رعایت ملے گی اور لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھے گا۔ ائندہ مالی سال میں بھی ان بجلی اور گیس کے سر کلر ڈیٹ میں کسی قسم کے اضافہ نہ ہونے دینے کی کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ٹارگٹڈ سبسڈیز ہوں گی اور لاگت میں کمی کے لیے اصلاحات کی جائیں گی، اس کے لیے جو حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اسے سرکلر ڈ یٹ مینجمنٹ پلان کا نام دیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد یکم جولائی سے شروع کر دیا جائے گا، تمام صوبوں نے اتفاق کیا ہے کہ بجلی ہو یا گیس وہ کسی طرح کی سبسڈی نہیں دیں گے، آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ سرکلر ڈیٹ ادا کرنے کے لیے 1252 ارب روپے بنکوں سے قرض لیے جائیں گے۔ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم اف نے پاکستان میں مسلسل چھ سال اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہنے کی پیش گوئی کر دی ہے جبکہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح حکومتی ہدف سے کہیں کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔آئی ایم ایف نے پاکستان میں مسلسل چھ سال اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ رہنے کی پیش گوئی کر دی ہے اور آئی ایم ایف رواں مالی سال مہنگائی 12 فیصد کے حکومتی ہدف کے مقابلے میں صرف 5.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایم ایف جائے گا آئی ایم
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا