بلوچستان کے 18 اضلاع کے 62 اہلکاروں کو ڈی جی لیویز کیجانب سے مبینہ بدعنوانی اور چیک پوسٹوں پر رشوت خوری میں ملوث ہونیکی بنا پر فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز فورس عبدالغفار مگسی نے مبینہ بدعنوانی اور چیک پوسٹوں پر رشوت خوری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے 18 اضلاع کے 62 اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ معطل شدہ اہلکاروں میں رسالدار، نائب رسالدار، دفعدار، حوالدار، سپاہی اور ڈرائیور شامل ہیں، جن کا تعلق قلعہ عبداللہ، پشین، چمن، کچھی، خضدار، موسیٰ خیل، بارکھان، شیرانی، لورالائی، ژوب، سبی، واشک، چاغی، جھل مگسی، مستونگ، سوراب، پنجگور اور نوشکی سے ہے۔ ڈی جی لیویز نے واضح کیا کہ بدعنوانی اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے عناصر کی فورس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ معطل شدہ اہلکاروں کے خلاف انکوائری کے لیے ڈاکٹر میر وائس خان، ڈائریکٹر (ایڈمن/فنانس) کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ ڈی جی لیویز نے تمام اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ایمانداری، دیانتداری اور فرض شناسی سے ادا کریں۔ بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے