غیر قانونی تارکین وطن نے قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، نائب صدر ہند
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
جگدیپ دھنکھر نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 20 ملین سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں، کیا ہم انکو برداشت کرسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن، جن کی تعداد 20 ملین ہے، نے بھارت کی قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دھنکھر نے کہا کہ جب ہماری سرحد کا تقدس غیر قانونی تارکین وطن کے ذریعہ پامال ہوتا ہے، تو یہ امن و امان کا سوال نہیں ہے بلکہ ہماری بقا اور قومی سالمیت کا سوال ہے۔ وہ ممبئی میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پاپولیشن سائنسز (IIPS) کے کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے قومی وسائل کو استعمال کرتے ہیں اور ہماری نوکریاں بھی لے لیتے ہیں، وہ ہماری قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
دھنکھر نے طلباء سے کہا کہ ہمیشہ ایسے چیلنجوں سے ہوشیار رہیں جب آبادیاتی توازن میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے، نامیاتی ارتقاء کے ذریعہ نہیں بلکہ خوفناک، منظم ڈیزائن کے ذریعہ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ہجرت کا سوال نہیں بلکہ آبادیاتی حملے کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 20 ملین سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں، کیا ہم ان کو برداشت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ملک میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہماری تہذیب کے لئے پُرعزم ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر قانونی تارکین وطن انہوں نے کہا کہ دھنکھر نے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔