نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی نیویارک میں تاجروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جولائی2025ء) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے معاشی منظرنامے خاص طور پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسے اقدامات میں نمایاں بہتری پر روشنی ڈالی اور زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری پر زور دیا۔
(جاری ہے)
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکا کو پاکستان میں متنوع سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی جس میں صارفین کی آبادی، نوجوان افرادی قوت، بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور جغرافیائی فوائد کو استعمال کرتے ہوئے باہمی فائدہ مند نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ شرکا نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے معاشی تعاون اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سرمایہ کاری
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں