جماعتِ اسلامی کا کل خیبر پختونخوا حکومت کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان کے پی حکومت کی اے پی سی میں شریک ہوں گے—فائل فوٹو
جماعتِ اسلامی نے کل خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کا اعلان کر دیا۔
اس حوالے سے جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا کے صوبائی امیرِ وسطی عبدالواسع کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی امن وامان سے متعلق اے پی سی میں شرکت کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبہ بد ترین بدامنی کا شکار ہے، جماعتِ اسلامی امن کی ہر کوشش کی حمایت کرتی ہے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ کے پی کابینہ کے اجلاس میں پائیدار امن کے لیے آئندہ ہفتے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
عبدالواسع نے مزید کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتیں متحد تھیں تو امن کے لیے کیوں متحد نہیں ہوتیں؟
جماعتِ اسلامی کے ترجمان نورالواحد جدون نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان اے پی سی میں شریک ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اے پی سی میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔