کراچی؛ ڈیفنس میں ڈمپر ڈرائیور سے بےقابو ہوکر دیوار توڑ کر بنگلے میں جا گھسا
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
کراچی:
ڈیفنس موڑ کے قریب تیز رفتار ڈمپر ڈرائیور سے بے قابو ہو کر دیوار توڑ کر بنگلے میں جا گھسا جس کے باعث ڈرائیور اور کلئینر زخمی ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ٹریفک پولیس موقع پر پہنچ گئی جبکہ موقع پر شہریوں کی بھی بڑی تعداد اکھٹی ہوگئی تھی۔ پولیس نے شہریوں کی مدد سے ڈمپر میں پھنسے ڈرائیور اور کلئینر کو زخمی حالت میں ڈمپر سے نکال کر اسپتال منتقل کیا۔
ڈیفنس ٹریفک سیکشن کے انچارج سب انسپکٹر ارشد غنی کا کہنا تھا کہ رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈمپر ڈرائیور سے بے قابو ہوگیا اور ڈمپر کے ٹکرانے سے بنگلے کی دیوار کو نقصان پہنچا، تاہم حادثے میں بنگلے میں موجود کسی شخص کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ڈمپر تعمیراتی ملبہ لے کر پنجاب کالونی کی طرف جا رہا تھا، حادثے کے ذمے دار ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا جو اسپتال میں زیر علاج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔