آزاد کشمیر، گاڑی کھائی میں گرنے سے 5 پولیس اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
جاں بحق افراد کی لاشوں کو کھائی سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے لس ڈنہ روڈ ٹریفک کیلئے بند رکھنے کا مراسلہ جاری کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں لس ڈنہ کے مقام پر گاڑی کھائی میں گر گئی، حادثے میں 5 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر باغ کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں ایس ایچ او کھائی گلہ نوید، انسپکٹر یاسر کیانی شامل ہیں۔ جاں بحق افراد میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر پولیس ذاکر اعوان بھی شامل ہیں۔ ڈی سی باغ کا کہنا ہے کہ آئی جی کے ریڈر علی بخاری اور اہلکار فہیم بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کی لاشوں کو کھائی سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے لس ڈنہ روڈ ٹریفک کیلئے بند رکھنے کا مراسلہ جاری کیا تھا، 16 مئی کو بھیجے مراسلے میں کہا گیا تھا کہ سڑک نامکمل ہے، ٹریفک کیلئے بند رکھی جائے۔ مراسلہ ڈپٹی کمشنر پونچھ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پونچھ اور دیگر کو ارسال کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ سڑک کی سیفٹی والز اور پیراپِٹ کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی، اس شاہراہ پر پہلے بھی ایک حادثہ ہوا جس میں کئی لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ سڑک ٹریفک کیلئے بند نہیں کی گئی تو مزید حادثات ہو سکتے ہیں، سڑک مکمل ہونے تک پبلک ٹرانسپورٹ کو داخلے کا این او سی جاری نہیں کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹریفک کیلئے بند جاں بحق افراد گیا تھا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔