نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے، وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ہدایت پر نیٹ میٹرنگ پالیسی دوبارہ تیار کرلی ہے۔ منظوری ملنے پر ایک ماہ میں جاری کردی جائے گی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اسلام آباد میں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کی قیمتیں مسلسل نیچے کی طرف جارہی ہیں۔ چند ماہ سے دستیاب پانی کی خراب صورتحال کے باعث مہنگے فیول پر بجلی بنانا پڑی اس لیے فی یونٹ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ بڑھانا پڑتی ہے۔ مجموعی طور پر بجلی سستی ہوئی ہے۔
ایک بٹن دبائیں گے تو بھارت کے ڈیم اُڑ جائیں گے ، ہمارے لیئے تو مسئلہ نہیں ہے: ایٹمی سائنسدان ثمر مبارک
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ہم نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے، زرعی شعبہ اور صنعتیں سولر پر منتقل ہوچکی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کی گئیں، حکومت نے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ ایک سال میں صنعتی شعبے کا ٹیرف 30 فیصد کم کیا گیا ہے، کوشش ہے پاور ٹیرف میں پائیدار بنیاد پر کمی کی جائے، درآمدی فیول کے بجائے متبادل توانائی سے بجلی کی پیداوار پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں متبادل ذرائع توانائی کا انقلاب آچکا ہے، گزشتہ 2 سے 3 سال کے دوران بجلی کی طلب میں کمی ہوئی ہے، آج پاکستان میں 7 ہزار میگاواٹ بجلی سرپلس ہے، مستقبل میں بجلی کی خریداری کیلئے مسابقتی مارکیٹ قائم جارہی ہے۔
عمران کی رہائی کیلئے تحریک: غیر حاضر اراکین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
وفاقی وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ فرنس آئل پر چلنے والے3ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹس ختم کیے، کوشش کررہے ہیں کہ ترسیلی نقصانات کا بوجھ صارفین پر نہ پڑے، کوشش ہے درآمدی فیول پر چلنے والے پاور پلانٹس کا ماحول پر اثر نہ پڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیر توانائی بجلی کی
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔