امریکا نے ایک بار پھر بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ اشتعال انگیزیوں کے بعد نئی دہلی کو علاقائی امن و استحکام برقرار رکھنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سیز فائر کا اعلان کیوں کیا؟ سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کو بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیاں

سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والی اہم ملاقات میں امریکا نے واضح طور پر بھارت پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی پھیلانے سے گریز کرے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے 27 مئی سے شروع ہونے والے اپنے 3 روزہ دورے کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ سے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق امریکا نے دوٹوک انداز میں بھارت کو باور کرایا ہے کہ علاقائی امن کو متاثر کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

یاد رہے کہ 6 مئی کو بھارت نے پہلگام  میں سیاحوں کی ہلاکت کا جھوٹا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے یکطرفہ حملہ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے نہ صرف 5 بھارتی طیارے (جن میں 4 رافیل اور ایک ڈرون شامل تھا) مار گرائے بلکہ ایس-400 دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان،افغانستان اور چین ایک ہوگئے، انڈیا شدید تنہائی کا شکار

اس کے علاوہ بھارتی میزائل داغنے والے تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان جھڑپوں کے بعد امریکا کی کوششوں سے دو طرفہ جنگ بندی عمل میں آئی جو تاحال برقرار ہے، تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

مودی نے حالیہ بیان میں کہا تھا ’پاکستانی روٹی کھائیں ورنہ میری گولیاں تیار ہیں‘۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیملی بروس کے مطابق، ملاقات میں نائب وزیر خارجہ لینڈاؤ نے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم ذرائع کے مطابق انہوں نے بھارت پر جارحیت سے باز رہنے کا واضح پیغام بھی دیا۔

مارکیٹ تک رسائی اور دیگر امور پر بھی دباؤ

اس ملاقات میں نائب وزیر خارجہ لینڈاؤ نے بھارت سے مارکیٹ تک رسائی کو شفاف بنانے، امیگریشن اور منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:’پاک انڈیا میچ یا جنگ؟‘ ٹین اسپورٹس کے مثبت اشتہار نے شائقین کے دل جیت لیے

واضح رہے کہ فروری میں سابق صدر ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کے دوران، بھارت کو امریکا سے بے دخل کیے گئے غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کو واپس لینے پر بھی مجبور کیا گیا تھا۔

پاکستان کے لیے ایک اور سفارتی کامیابی

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکا کی طرف سے جاری کیے گئے باضابطہ بیان میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جسے پاکستان کے لیے ایک اور سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت پر بڑھتا ہوا امریکی دباؤ اور پاکستان کا بردبار ردعمل سفارتی محاذ پر اسلام آباد کے لیے مثبت نتائج لا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار