لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت کے سیکرٹری خارجہ شری وکرم مصری نے امریکا کے نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لنڈاو سے واشنگٹن میں ملاقات کی ہے، ذرائع کے مطابق امریکا نے دو ٹوک انداز میں بھارت پر واضح کیا ہےکہ علاقائی استحکام اور امن برقرار رکھا جائے۔

علاقائی استحکام اور امن پر بھارت نے 6 مئی کو اس وقت ضرب لگائی تھی جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کے قتل کا پاکستان پر بے بنیاد الزام لگا کر مودی سرکار نے پاکستان پر چڑھائی کردی تھی۔

ویڈیو: رافیل کی بیوہ

حق دفاع استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے اس جارحیت کا دندان شکن جواب دیا تھا جس میں بھارت کے 4  رافیل سمیت 5 طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا تھا، ایس فورہنڈریڈ دفاعی نظام کو تباہ کردیا گیا تھا اور ان تمام فوجی اڈوں پر حملےکیے تھے جہاں سے بھارت نے پاکستان پر میزائل داغ کر شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔ان حملوں کے بعد امریکا کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی قائم ہوگئی تھی جو اب بھی برقرار ہے۔

رانجھا گوشت اب لاہور میں بھی ، 8 گھنٹے میں کیسے تیار ہوتا ہے ؟

تاہم مودی سرکاری کی جانب سے اشتعال انگیزی جاری ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستانی روٹی کھائیں ورنہ میری گولی تو ہے ہی۔ان حملوں کے بعد بھارت کے سیکرٹری خارجہ شری وکرم مصری 27 مئی سے 3روزہ دورے پر امریکا میں ہیں۔بدھ کی شام ان کی نائب امریکی وزیر خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ اس ملاقات میں کرسٹوفرلنڈاو نے امریکا بھارت قریبی شراکت داری جاری رکھنےکاعزم کیا ہے ۔

پختونخوا، پنجاب،کشمیر،گلگت بلتستان میں آج بارش کا امکان

بھارت کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کرے: امریکا

تاہم ذرائع کے مطابق ساتھ ہی امریکا نے بھارت سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ علاقائی امن اور استحکام برقرار رکھا جائے۔ یعنی بھارت پر واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کرے۔ایک اہم پیشرفت یہ بھی ہے کہ امریکا کے نائب وزیرخارجہ نے بھارت سے مارکیٹ رسائی کا عمل شفاف بنانے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے اور ساتھ ہی مائیگریشن اور اینٹی نارکوٹکس تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا رشتہ طے پاگیا

فروری میں جب صدر ٹرمپ کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تھی اس وقت بھی نریندر مودی کو ماننا پڑا تھا کہ وہ امریکا سے ڈی پورٹ کیے جانے والے غیرقانونی بھارتی مائیگرینٹس کو واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بھارت کے کیا ہے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان